.

عراق کو روس کے ساتھ تاریخی معاہدے کے تحت اسلحے کی ترسیل

بغداد حکومت کا روس کے ساتھ معاہدے کونظرثانی کے بعد جاری رکھنے کا فیصلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کو روس کے ساتھ گذشتہ سال طے پائے چار ارب تیس کروڑ ڈالرز مالیت کے معاہدے کے تحت اسلحے کی ترسیل شروع ہوگئی ہے۔

یاد رہے کہ عراق نے اکتوبر 2012ء میں روس سے قریباً چار ارب تیس کروڑ ڈالرز مالیت کے اسلحے کی خریداری کے مختلف معاہدوں پر دستخط کیے تھے اور تب عراقی وزیراعظم نوری المالکی اور اور ان کے روسی ہم منصب دمتری میدویدیف کے درمیان ملاقات کے بعد ان معاہدوں کا اعلان کیا گیا تھا۔

اس معاہدے کے حوالے سے کرپشن کے الزامات بھی سامنے آئے تھے لیکن عراقی وزیراعظم نوری المالکی کے میڈیا مشیرعلی الموساوی نے جمعرات کو ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ بغداد نے روس کے ساتھ اس معاہدے پر نظرثانی کے بعد اس کو جاری رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔

انھوں نے روس کے سرکاری نشریاتی ادارے آر ٹی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''ہمیں اس معاہدے کے بارے میں بعض حقیقی شبہات تھے لیکن اس معاہدے پر دستخط کے بعد ہم نے اس پر مرحلہ وار عمل درآمد شروع کردیا ہے''۔

معاہدے کے وقت روسی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا روس عراق کو 30 ایم آئی-28 لڑاکا ہیلی کاپٹرز اور 42 پینٹسیر ایس 1 زمین سے فضا میں مار کرنے والا میزائل سسٹم فروخت کرے گا۔

دونوں ممالک کے درمیان مِگ 29 جیٹ لڑاکا طیاروں اور بھاری اسلحے اور بکتربند گاڑیوں کی فروخت کے لیے بھی بات چیت ہوئی تھی۔علی الموساوی کا کہنا تھا کہ عراق بنیادی طور پر لڑاکا ہیلی کاپٹروں کی خریداری میں دلچسپی رکھتا تھا تاکہ ان کو ملک بھر میں مشتبہ باغی جنگجوؤں کے خلاف کارروائیوں میں استعمال کیا جاسکے۔

روسی میڈیا کی رپورٹس میں بتایا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے درمیان طے پائے معاہدوں کے بعد روس امریکا کے بعد عراق کو اسلحے کا دوسر بڑا برآمد کنندہ ملک بن جائے گا اور یہ 2006ء کے بعد مشرق وسطیٰ کے کسی ملک کے ساتھ روس کا پہلا بڑا سودا ہوگا۔