.

مسلمان اختلافات بھول کر باہمی مکالمے کا آغاز کریں: شاہ عبداللہ

سعودی معاملات میں مداخلت کی اجازت نہیں دینگے: مسلم اکابرین کے نام پیغام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

خادم حرمین شریفین شاہ عبداللہ نے مسلمانان عالم پر زور دیا ہے کہ اپنے اختلافات کو بھول کر آپس میں بات چیت کے ذریعے فرقہ واریت پر قابو پائیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار اس وقت کیا ہے جب پوری امت عید الاضحی منا رہی ہے۔ شاہ عبداللہ کا یہ پیغام ولی عہد شہزادہ سلمان بن عبدالعزیز نے حج کے سلسے میں سعودی عرب آنے والے اکابرین کے اعزاز میں منی میں منعقدہ تقریب کے موقع پر پڑھ کر سنایا۔

شاہ عبداللہ نے کہا ہے کہ ''ہمارے مقاصد مسلمانوں کے مفادات ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کا افتراق ختم ہو اور مسلمانوں کے مختلف مکاتب میں مکالمے کا آغاز ہو۔'' شاہ عبداللہ کے اس پیغام میں مزید کہا گیا ہے کہ '' مسلمانوں کو ضرور اپنی رقابتوں کو ایک طرف رکھتے ہوئے مدینہ منورہ کو اپنے باہمی مذاکرات کا مرکز بنانا چاہیے ۔''

ان کا کہنا تھا '' اس سلسلے میں ماہ رمضان کے دوران مکہ میں ہونے والی اسلامی یکجہتی کانفرنس میں اختیار کیا گیا منصوبہ مفید ہو سکتا ہے۔'' تاہم انہوں نے زور دے کر کہا سعودی عرب اپنے اندرونی معاملات میں کسی مداخلت کو برداشت نہیں کرے گا۔''

شاہ عبداللہ کے اس پیغام میں یہ بھی دوٹوک کہا گیا '' ہم نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی اس سر زمین سے ہم دنیا کو بتا رہے ہیں کہ ہم ایک قوم کے طور پر اپنے مذہب اور اقدار پر کبھی سمجھوتہ نہیں کریں گے، نہ ہی کسی کو اجازت دیں گے کہ وہ ہمارے اقتدار اعلی کو ہدف بنائے اور داخلی یا خارجی معاملات میں مداخلت کرے۔''

خادم حرمین شریفین نے بقائے باہمی کے اصولوں کے تحت باہمی عزت، دوستی کو مفادات کے فرق کے باوجود سامنے رکھے جانے کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا دشمنیوں کے اس دور میں ہمیں دھونس اور جارحیت کو مسترد کرنا ہو گا، اگر ہم نے اس کا احساس کر لیا تو ہم اختلاف رائے کے باوجود باہم دوستی کے رشتے میں منسلک رہ سکیں گے۔''