.

تیونسی فورسز کا احتجاج، صدر اور وزیر اعظم کی نماز جنازہ میں عدم شرکت

مسلح افراد کے حملے میں دو پولیس اہلکاروں کی ہلاکت پر سکیورٹی فورسز کا احتجاج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں سکیورٹی فورسز کے مشتعل اہلکاروں کے احتجاج کے بعد صدر منصف مرزوقی اور وزیر اعظم علی العریض دو مقتول پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ اور آخری رسوم میں شرکت نہیں کرسکے ہیں۔

دونوں مقتول پولیس اہلکاروں کی آخری رسوم دارالحکومت تیونس کے نواح میں واقع لاآئینہ میں فوجی بیرکوں میں منعقد ہورہی تھیں۔اس موقع پر بعض باوردی سکیورٹی اہلکاروں نے صدر منصف مرزوقی اور وزیراعظم علی العریض کو درشت لہجے میں کہا کہ وہ وہاں سے چلے جائیں۔ان کے ساتھ پارلیمان کے اسپیکر مصطفیٰ بن جعفر بھی تھے۔ وہ سکیورٹی اہلکاروں کی نعرے بازی کے قریباً بیس منٹ کے بعد وہاں سے چلے گئے۔

بعض مظاہرین کا کہنا تھا کہ ہم سیاست دانوں کی موجودگی کو قبول نہیں کرسکتے۔صرف وزیر داخلہ لطفی بن جدو دونوں پولیس اہلکاروں کی نماز جنازہ میں شرکت کرسکےہیں۔ان دونوں پولیس اہلکاروں کو تیونس سے ستر کلومیٹر مغرب میں واقع علاقے نجا میں مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا۔

اس موقع پر وزیرداخلہ نے مختصر تقریر میں کہا کہ ''ہم سب دہشت گردی کے خلاف ہیں۔یہ ایک جنگ ہے اور ہم اس سے دستبردار نہیں ہوں گے''۔قبل ازیں تیونس کی وزارت داخلہ نے ایک بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے گذشتہ روز حملہ کرنے والے گروپ کے متعدد ارکان کو ہلاک کردیا ہے۔

واضح رہے کہ حالیہ مہینوں کے دوران سکیورٹی فورسز کی یونینیں متعدد مرتبہ جہادی تحریکوں کے خلاف لڑائی میں وسائل کی عدم دستیابی پراحتجاج کرچکی ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت انھیں جہادی گروپوں کے مقابلے میں لڑائی کے لیے ضروری وسائل مہیا کرے۔