.

جنیوا امن کانفرنس کے لیے تاریخوں کا تعین نہیں کیا گیا: روس، امریکا

حتمی تاریخ کا تعیّن اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کی ذمے داری ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس اور امریکا نے مجوزہ جنیوا دوم امن کانفرنس کے لیے تاریخوں کے تعیّن کی تردید کر دی ہے اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی تک اس کے انعقاد کے لیے تاریخیں مقرر نہیں کی گئی ہیں۔

روسی وزارت خارجہ کے ترجمان الیگزینڈر لوکاشوچ نے جمعہ کو ایک بیان میں کہا ہے کہ جنیوا میں مجوزہ کانفرنس کی تاریخوں کا اعلان اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون کی ذمے داری ہے۔امریکا نے بھی اس بیان کی تائید کی ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان جین ساکی نے اپنی معمول کی بریفنگ کے دوران بتایا کہ ''ہم نے مجوزہ کانفرنس کی ممکنہ تاریخوں کے بارے میں تبادلہ خیال کیا ہے لیکن اقوام متحدہ نے ابھی تک حتمی تاریخ کا تعین نہیں کیا ہے''۔

شام کے لیے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی الاخضر الابراہیمی کی خاتون ترجمان کا بھی کہنا ہے کہ جنیوا دوم کانفرنس کے وقت پر کوئی اتفاق نہیں ہوا ہے۔شام کے نائب وزیراعظم قدری جمیل نے جمعرات کو ماسکو میں نیوز کانفرنس کے دوران کہا تھا کہ جنیوا میں دوسری مجوزہ امن کانفرنس 23 اور 24 نومبر کو ہوگی۔

قدری جمیل نے بعد میں کہا کہ انھیں ان تاریخوں کے بارے میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بین کی مون نے آگاہ کیا تھا اور انھوں نے اپنے طور پر ان تارِیخوں کا اعلان نہیں کیا۔ان سے نیوزکانفرنس میں جنیوا میں بات چیت کے انعقاد کے بارے میں سوال کیا گیا تھا کہ کیا یہ نومبر کے وسط کے بجائے نومبر کے آخر یا دسمبر میں ہوگی۔

روس اور امریکا شام میں جاری بحران کے خاتمے کے لیے مئی سے اب تک اس کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشاں ہیں۔اسی ہفتے کے آغاز میں شامی قومی اتحاد میں شامل سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل (ایس این سی) نے اس مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کیا ہے۔