.

سعودی عرب نے سلامتی کونسل کی غیرمستقل رُکنیت ٹھکرادی

سلامتی کونسل جنگوں اور تنازعات کے خاتمے میں ناکام رہی ہے:سعودی وزارت خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دوسال کے لیے غیر مستقل رُکنیت ٹھکرا دی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ کونسل جنگوں اور تنازعات کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے جمعہ کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ ''سلامتی کونسل نے اپنے کام کے لیے جو طریق کار اور میکانزم اور دُہرے معیارات اپنا رکھے ہیں ،ان کی وجہ سے وہ عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی ذمے داریاں نبھانے میں ناکام رہی ہے''۔

سعودی عرب کو جمعرات کو پہلی مرتبہ دوسال کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا گیا تھا لیکن اس نے عالمی ادارے میں اصلاحات متعارف کرانے تک اس کی نشست سنبھالنے سے انکار کردیا ہے۔

سعودی وزارت خارجہ نے سلامتی کونسل پر الزام عاید کیا ہے کہ وہ شام کے حوالے سے اپنی ذمے داریاں پوری کرنے میں ناکام رہی ہے اور یہی وجہ ہے کہ شامی صدر بشارالاسد نے سزا کے کسی خوف سے بے نیاز ہوکر اپنے ہی عوام کے خلاف جرائم کے ارتکاب کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔

سعودی عرب کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایس پی اے کی جانب سے جاری کردہ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سلامتی کونسل فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کے درمیان عشروں پرانے تنازعے کو حل کرنے میں ناکام رہی ہے۔اس کے علاوہ وہ مشرق وسطیٰ کو بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک علاقہ بنانے میں بھی ناکام رہی ہے۔

سعودی عرب کے علاوہ چاڈ ،چلّی ،لیتھوینیا اور نائیجیریا کو پندرہ ارکان پر مشتمل سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب کیا گیا تھا۔ان میں سے چارممالک یکم جنوری 2014ء کو آذربائیجان ،پاکستان ،گوئٹے مالا ،مراکش اور ٹوگو کی جگہ سلامتی کونسل کی دوسال کے لیے نشستیں سنبھالیں گے اور اب سعودی عرب کی جگہ کسی اور ملک کا انتخاب کیا جائے گا۔