.

لیبیا:ملٹری پولیس کے سربراہ بن غازی میں قتل

نامعلوم مسلح افراد کی کرنل احمد مصطفیٰ البرغاثی پر ان کے گھر کے باہر فائرنگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کی ملٹری پولیس کے سربراہ کرنل احمد مصطفیٰ البرغاثی کو مشرقی شہر بن غازی میں نامعلوم مسلح حملہ آوروں نے فائرنگ کرکے قتل کردیا ہے۔

لیبیا کی سکیورٹی سروسز کے ترجمان کرنل عبداللہ الزیدی نے بتایا ہے کہ بن غازی میں جمعہ کو مسلح افراد نے کرنل برغاثی پر ان کے گھر کے باہر فائرنگ کردی اور ان کے سر اور سینے میں گولیاں ماری تھیں جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے۔انھیں شہر کے الجالا اسپتال میں منتقل کیا گیا جہاں وہ اپنے زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔

واضح رہے کہ کرنل برغاثی نے لیبیا کے سابق مردآہن کرنل معمر قذافی کے خلاف مسلح بغاوت میں قائدانہ کردار ادا کیا تھا۔وہ کرنل قذافی کی فوج میں کرنل تھے لیکن جب ان کے خلاف عوامی بغاوت پھوٹ پڑی تو وہ منحرف ہوگئے تھے اور انھوں نے باغی جنگجوؤں کی قیادت سنبھال لی تھی۔وہ قاتلانہ حملے کے وقت عید الاضحیٰ کی چھٹیوں پر تھے۔

بن غازی کرنل قذافی کے خلاف مسلح عوامی بغاوت کا مرکز رہا تھا لیکن لیبیا کے اس دوسرے بڑے شہر میں سابق صدر کی حکومت کے خاتمے کے دوسال بعد بھی امن قائم نہیں ہوسکا ہے۔اس شہر میں سابق باغی جنگجو اور قبائلی ملیشیاؤں کے جتھے دندناتے پھر رہے ہیں اور ان پر سکیورٹی فورسز کے متعدد اعلیٰ عہدے داروں پر حملوں کے الزامات عاید کیے جاچکے ہیں۔

اس شہر میں مغربی مفادات اور سفارت کاروں کو بھی نشانہ بنایا جاچکا ہے۔گذشتہ سال 11 ستمبر کو بن غازی میں امریکا میں بنی اسلام مخالف فلم کے خلاف احتجاج کے دوران مسلح افراد نے امریکی مشن پر حملہ کرکے امریکی سفیر کرس اسٹیونز سمیت چار سفارتی اہلکاروں کو ہلاک کردیا تھا۔