.

منشیات کو خیرباد کہنے والوں کے لیے حج کی سعادت

مسلم ممالک کو سعودی عرب کے بحالی پروگرام پرعمل پیراہونے کی دعوت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب اور دوسرے خلیجی ممالک سے تعلق رکھنے والے منشیات کے عادی ایک سو سے زیادہ افراد نے اس مرتبہ سعودی محکمہ انسداد منشیات کے بحالی پروگرام کے تحت حج کی سعادت حاصل کی ہے۔

منشیات کے ان عادی افراد نے چار سے چھے ماہ قبل نشے کو چھوڑا تھا اور وہ معمول کی زندگی کی جانب لوٹنے کے لیے سعودی عرب کی نظامت انسداد منشیات کے زیراہتمام نفسیاتی علاج کے عمل سے گزر رہے تھے۔

نظامت کے ڈائریکٹرجنرل،میجرجنرل عثمان ناصرالمہرج نے العربیہ کو بتایا کہ منشیات کے ان عادی افراد کونشہ چھڑوانے کے لیے بحالی کے طویل عمل سے گزارا گیا ہے،اس دوران انھیں مذہبی مقامات کی سیر کرائی گئی ہے اور منشیات کی حرمت سے متعلق لیکچرز دیے گئے ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ گذشتہ رمضان المبارک کے دوران نشے کو ترک کرنے والے ڈھائی سو افراد کو عمرہ کرایا گیا تھا۔انھوں نے کعبتہ اللہ کا طواف کیا اور صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی سعادت حاصل کی تھی۔

جنرل مہرج کا کہنا ہے کہ ''ہم انھیں ان کے مسائل کے حل میں مدد دے رہے ہیں تاکہ وہ نئی زندگی کو اختیار کرسکیں اور یہ وہ کم سے کم مدد ہے جو ہم ان کی کرسکتے ہیں''۔

نظامت انسداد منشیات کے ڈپٹی ڈائریکٹر عبدالالہ الشریف نے بتایا کہ غریب اور امیر دونوں ہی طبقات سے تعلق رکھنے والے افراد نشے کی لت کا شکار ہوتے ہیں لیکن ان کا محکمہ ان میں کوئی تمیز روا نہیں رکھتا اور وہ ان سب کی بحالی کے لیے کوشاں ہے۔

دوسرے مسلم ممالک پیروی کریں

جنرل مہرج کا کہنا ہے کہ سعودی عرب جس طرح منشیات کے عادی افراد سے نشہ چھڑوانے کے بعد انھیں حج اور عمرہ کرارہا ہے اورانھیں معمول کی زندگی بسر کرنے کے قابل بنا رہا ہے،دوسرے مسلم ممالک کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے لیکن وہ یہ عمل سعودی عرب کے ساتھ رابطے کے ذریعے کرسکتے ہیں۔

سعودی عرب کے مشرقی علاقے القطیف سے تعلق رکھنے والا علی حسن انھی منشیات کے عادی افراد میں شامل تھا۔وہ دس سال تک گانجے کا نشہ کرتا رہا تھا۔اس کے علاوہ وہ نشہ آور گولیاں استعمال کرتا تھا۔

اس نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایک روز مجھے میرے خاندان والے العمل اسپتال میں علاج کے لیے لے گئے اور وہاں ہمیں اس پروگرام کے بارے میں بتایا گیا۔پھر میں نے اس پروگرام کے ذمے داروں سے رابطہ کیا۔وہ مجھے پہلے عمرہ کے لیے مکہ مکرمہ لے گئے ،اس دوران وہ باقاعدگی سے ہمیں لیکچرز دیتے رہے اور پھر قطر لے گئے۔

علی حسن نے مزید بتایا کہ ''نشہ چھوڑے ہوئے مجھے چھے ماہ ہونے کو ہیں،اب میں بہتری محسوس کررہا ہوں اور حج کی سعادت کے بعد تو میرا یقین اور بھی پختہ ہوا ہے کہ اب منشیات کی جانب نہیں لوٹنا''۔

اومان سے تعلق رکھنے والے منشیات کے ایک اور سابق عادی شخص حسید سیف نے العربیہ کو بتایا کہ وہ نشے کی لت کی وجہ سے اپنی ملازمت سے جاتا رہا تھا۔اس نے بتایا کہ ''میں کام کرتا اور پڑھتا تھا لیکن جب میں پریشان اور ڈپریشن کا شکار ہوجاتا تو میں منشیات استعمال کرنے لگ جاتا تھا۔اس دوران میں اپنی کلائیاں بھی زخمی کر لیا کرتا تھا''۔

''ایک دن میں اپنے مینجر کے دفتر میں گیا اور اس سے میری توتکار ہوگئی۔میں نے خود کو کاٹ لیا۔اس نے مجھے ملازمت سے فارغ کردیا اور کہا کہ سیف تم یہاں سے چلے جاؤ اور جاکر اپنا علاج کراؤ۔جب میں نے اس پروگرام کے بارے میں سنا تو میں نے بھی اس میں شمولیت اختیار کر لی۔اب میں بہتری محسوس کررہا ہوں۔میرے کردار،رویّے اور سماجی تعلقات میں بھی بہتری آئی ہے''۔اس نے مزید بتایا کہ وہ بھی دس سال تک نشے کی لت میں مبتلا رہا اور پانچ ماہ قبل اس نے نشے کو خیرباد کہہ دیا تھا۔