.

نیروبی شاپنگ مال میں فائرنگ کی نئی وڈیوز سامنے آ گئیں

فوٹیج میں حملہ آور سٹور باری باری نماز پڑھتے دیکھے جا سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کینیا کے شاپنگ مال میں فائرنگ کرنے والے دہشت گردوں کی نئی وڈیو ز منظر عام پر آ گئیں۔ شاپنگ پر آئے افراد جان بچانے کے لیے بھاگتے چْھپتے نظر آ رہے ہیں۔

کینیا کے دارلحکومت نیروبی میں اکیس ستمبرکو دہشت گردی کاواقعہ پیش آیا جس کی سی سی ٹی وی فوٹیج جاری کردی گئی ہیں۔ یہ اس وقت کی ویڈیوز ہیں جب دہشت گرد شاپنگ مال میں داخل ہوئے۔ ویڈیوز میں دیکھاجا سکتا ہے کہ لوگ شاپنگ میں مشغول تھے کہ اچانک باہر نکلنے والے افراد خوفزدہ ہو کر واپس اندر کی طرف بھاگنے لگے۔ اس فوٹیج میں حملہ آور اندھا دھند گولیاں برساتے، کبھی رک کر فون پر بات کرتے اور کبھی دعا کرتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں۔

شروع میں عام لوگ حملے سے بے خبر خریداری کرتے ہوئے نظر آتے ہیں، پھر اچانک سب کو احساس ہوتا ہے کہ کیا ہو رہا ہے جس کے بعد وہ فرار ہونے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ مال میں ہونے والے حملے کے پہلے دن کی ریکارڈنگ ہے۔ اس میں کوئی آواز نہیں ہے لیکن نظر آنے والے لوگوں کے چہروں سے خوف صاف جھلک رہا ہے۔

امریکی نیوز چینل سی این این نیوز چینل کو ملنے والی اس فوٹیج میں صرف چار حملہ آور دکھائی دے رہے ہیں اور یہ واضح نہیں ہوتا کہ وہ بچ گئے یا مارے گئے۔ سی این این کے مطابق انھوں نے فوٹیج جاری کرنے سے پہلے اس کے سب سے ہولناک حصے ہٹا دیے تھے۔

ریکارڈنگ میں ایک آدمی اپنے بچے کو اٹھا کر بھاگنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔ اسی وقت سر پر کپڑا باندھے ایک بندوق بردار حملہ آور دکان میں داخل ہوتا ہے۔

آگے بڑھنے سے پہلے وہ چھپنے کی کوشش کرنے والے ایک آدمی کو گولی مار دیتا ہے۔ زخمی آدمی اٹھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن اتنی دیر میں ایک اور حملہ آور وہاں آتا ہے اور اس کو جان سے مار دیتا ہے۔

مال کے بڑے ہال کی ریکارڈنگ میں گولیوں سے بچنے کے لیے خریداروں کو زمین پر رینگ کر بھاگنے کی کوشش کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔

سپر مارکیٹ والے حصے میں ایک ماں اپنے دو بچوں کے ساتھ ایک زخمی بچے کو سامان کی ٹرالی میں لے جا رہی ہے۔ اس کے پیچھے دونوں ہاتھ اٹھائے ایک لڑکی ہے، جسے ایک حملہ آور بندوق کی نوک پر لیے جا رہا ہے۔

نماز کی ادائی

ریکارڈنگ میں دکھائی دینے والے چاروں حملہ آور انتہائی مطمئن لگ رہے ہیں اور انھیں سامان رکھنے کے ایک سٹور میں باری باری نماز پڑھتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

کچھ مناظر میں وہ سپر مارکیٹ میں فون پر بات کرتے ہوئے ٹہلتے دکھائی دے رہے ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ شاید وہ مال کے باہر موجود لوگوں سے ہدایتیں لے رہے ہوں۔ ویسٹ گیٹ مال حملے کے بارے میں کینیا میں پارلیمانی تفتیش جاری ہے۔