.

صومالیہ میں بم دھماکا، 13 افراد ہلاک، الشباب نے ذمے داری قبول کر لی

خودکش حملے میں متعدد صومالی اور ایتھوپیائی فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

صومالیہ کے جنگجو گروپ الشباب نے وسطی قصبے بلدوین میں ہفتے کے روز بم دھماکے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔اس بم دھماکے میں تیرہ افراد ہلاک اور دس زخمی ہوگئے ہیں۔

مقامی حکام نے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کو بتایا ہے کہ بم حملے میں ایک مشہورریستوراں کو نشانہ بنایا گیا ہے جہاں ایتھوپیائی اور صومالی فوجیوں کا آنا جانا لگا رہتا ہے۔

الشباب کے ملٹری آپریشن کے ترجمان شیخ عبدیاسیس ابو مصعب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''بم حملے میں ہمارا ہدف صومالیہ پر چڑھائی کرنے والے ایتھوپیائی اور جبوتی کے فوجی تھے''۔

ابو مصعب نے مقامی حکام کی جانب سے بیان کردہ ہلاکتوں کی تعداد سے اختلاف کیا ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ بم دھماکے میں ایتھوپیا ،جبوتی اور صومالیہ کے پچیس فوجی مارے گئے ہیں۔تاہم بم دھماکے میں غیرملکی فوجیوں کی ہلاکت یا زخمی ہونے کی سرکاری ذرائع نے تصدیق نہیں کی ہے۔

جائے وقوعہ پر موجود ایک مقامی سردار احمد نور نے بتایا ہے کہ ''بارود سے بھری جیکٹ پہنے ایک شخص غیر متوقع طور پر ٹی شاپ میں داخل ہوا اور اس نے خود کو دھماکے سے اڑا لیا۔اس وقت وہاں فوجی اور عام شہری بیٹھے ہوئے تھے''۔

اس سردار کا کہنا تھا کہ ''میں نے متعدد فوجیوں کو وہاں سے لے جاتے ہوئے دیکھا ہے لیکن میں اس بات کی تصدیق نہیں کرسکتا کہ وہ مرچکے تھے یا زخمی حالت میں تھے۔

واضح رہے کہ صومالیہ میں ایتھوپیا کے فوجی گذشتہ قریباً ایک عشرے سے تعینات ہیں اور الشباب کے اسلامی جنگجوؤں کے خلاف نبردآزما ہیں۔ایتھوپیا نے پہلے ؁ 2006ء سے 2009ء کے درمیان القاعدہ سے وابستہ الشباب کے جنگجوؤں کے خلاف ناکام جنگ لڑی تھی اور اس کے بعد 2011ء میں صومالی حکومت کی درخواست پر ایتھوپیا کی فوج کو خانہ جنگی کا شکار ملک کے وسطی اور جنوبی علاقوں میں الشباب کے جنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے بھیجا گیا تھا۔