.

فارسی کوچ کی بدسلوکی سے دلبرداشتہ اھوازی فٹبالر کا اقدام خودکشی؟

پاسداران انقلاب کی ویب سائٹ نے خبر چلا کر بعد میں واپس لے لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں عرب اھواز فٹبالر سعید حلافی نے 'داماش' فٹبال کلب کے کوچ کی جانب سے امتیازی سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر خودکشی کی ناکام کوشش کی ہے۔

فارسی زبان کے 'فعاملان در تبعید' نامی پورٹل کے مطابق سعید حلافی ایران کے 'برسبولیس' فٹبال کلب کے اہم رکن تھے اور ان دنوں شمالی ایران کے جیلان صوبے کے 'داماش' کلب کی جانب سے کھیلتے ہیں۔ سعید نے داماش کلب کے کوچ کے امیتازی سلوک سے دلبرداشتہ ہو کر گذشتہ دنوں بھاری مقدار میں نشہ آور گولیاں کھا کر خودکشی کی کوشش کی۔

امتیازی سلوک کی وجہ سے خودکشی کی ناکام کوشش کرنے والے تیئس سالہ نوجوان عرب فٹبالر حلافی نے بتایا کہ اھوازی، فٹبال کے کھیل سے عشق کرتے ہیں، میں بھی اس کھیل اور 'داماش' کلب سے لگاو کی وجہ سے ٹیم میں شامل ہوا، تاہم مجھے فارسی بان کوچز کے امتیازی سلوک نے نفسیاتی مریض بنا دیا اور میں نے دلبرداشتہ ہو کر 95 گولیاں کھا لیں۔"

'فعاملان در تبعید' نے بعد ازاں ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ حلافی نے ایران کی سیکیورٹی ایجنسیوں کے دباو میں آ کر امتیازی سلوک کے بارے میں اپنا بیان واپس لے لیا۔

یاد رہے کہ ایران کی فٹبال ٹیم میں امتیازی سلوک کی کہانی نئی نہیں۔ ماضی میں شیراز شہر میں 'بیکان' کلب کے کوچ فیروز کریمی 'فجر' کلب کے سیاہ فام کھلاڑی سنلی بیتو پر انسانی گوشت کھانے کا الزام عاید کر چکے ہیں۔ سعید حلافی نے سترہ برس کی عمر میں تیل کی دولت سے مالا مال عبادان شہر کی ٹیم میں شمولیت اختیار کی اور ایران کی استقلال ٹیم کو ہرانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ اس کارکردگی کے بعد انہیں ایران کی یوتھ فٹبال ٹیم میں شامل کیا گیا۔

یاد رہے کہ ایران میں خوزستان کے صوبے میں عوام کی اکثریت عربی بولتی ہے۔ اسے 'عربستان' اور 'اھواز' جیسے تاریخی ناموں سے بھی موسوم کیا جاتا ہے اور اس خطے کو ایران میں فٹبال کے کھیل کی جائے پیدائش کہا جاتا ہے۔ خوزستان کے جنوب مغرب کے عبادان شہر میں سب سے پہلی فٹبال ٹیم 1928ء میں تشکیل پائی۔