.

قربانی کے جانوروں کی جانیں بچانے کے لیے فرار ہونے کی سعیٔ ناکام

بعض جانوروں کا ذبح سے بچنے کے لیے خودکش مشن

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کہتے ہیں کہ جان ہر کسی کو پیاری ہوتی ہے اور جانوروں میں بھی یہ جبلت بدرجۂ اتم موجود ہے۔ وہ اپنی جانیں بچانے کے لیے انسانوں کی طرح ہرممکن کوشش کرتے ہیں۔اس کا عملی مظاہرہ عید الاضحیٰ کے موقع پر قربانی کے جانوروں کی ذبح ہونے سے بچنے کے لیے فرار کی کوششوں کے دوران دیکھا گیا ہے۔

ویڈیو شئیرنگ کی ویب سائٹ یوٹیوب پر مختلف مسلم ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد نے جانوروں کی اس طرح جانیں بچانے کے لیے فرار کی کوشش کی ویڈیوز اپ لوڈ کی ہیں۔بعض ویڈیوز میں جانور اپنے مالکان پر حملہ آور ہوتے اور انھیں زخمی کرتے ہوئے دیکھے جاسکتے ہیں۔

قربانی کے جانوروں خاص طور پر بیل اور گائے کو ذبح کرنے کے لیے آٹھ دس افراد گرانے کی کوشش کرتے ہیں لیکن اس کے باوجود بعض زورآور جانور بھاگ نکلتے ہیں۔اس موقع پر کم سن بچے کسی خطرے سے بے نیاز ہوکر جانوروں کی اکھاڑ پچھاڑ اور بھاگ دوڑ سے خوب لطف اندوز ہوتے رہے ہیں لیکن اس دوران بعض اوقات خوفناک واقعات بھی پیش آجاتے ہیں اور جانوروں کو ذبح کرنے کی کوشش کے دوران مالکان خود کو زخمی کروا بیٹھتے ہیں۔

عیدالاضحیٰ پرحلال جانور کی قربانی حضرت ابراہیم علیہ السلام کی یادگار ہے جو اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کو اللہ کے حکم پر اس کی راہ میں قربان کرنے کو تیار ہوگئے تھے اور جب وہ اپنے بیٹے کی گردن پر چھری چلانے لگے تو اللہ کے حکم سے فرشتے قربانی کے لیے مینڈھا لے کر حاضر ہوگئے۔تب سے مسلمان ہر سال لاکھوں ،کروڑوں کی تعداد میں اللہ کی راہ میں جانور قربان کرتے چلے آرہے ہیں اور اس قربانی کا حاصل مقصود اللہ تعالیٰ کی خوشنودی اور رضا طلبی ہے۔

قربانی مسلمانوں کے درمیان اجتماعیت اور اجتماعی شعور کے فروغ کا بھی ایک ذریعہ ہے۔مسلم گھرانے قربانی کے جانور کو تین حصوں میں تقسیم کرتے ہیں اور اسے اپنے خاندان،اہل محلہ ،غرباء اور ضرورت مندوں میں تقسیم کرتے ہیں۔اس طرح ان میں باہمی اتحاد ،یگانگت اورایثارو محبت کو فروغ ملتا ہے۔