.

لبنان میں اغوا کیے گئے دو ترک ہوا بازوں کی رہائی

شام میں یرغمال بنائے گئے 9 لبنانی شہریوں کو رہا کر دیا گیا: وزیر داخلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترک وزیر خارجہ نے اطلاع دی ہے کہ لبنان میں اگست میں یرغمال بنائے گئے دو ترک پائیلٹوں کو ان کے اغوا کار بہت جلد رہا کر دیں گے۔

وزیر خارجہ احمد داؤد اوغلو نے ایک مقامی ٹیلی ویژن چینل سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ''دونوں ترک پائیلٹوں کی رہائی سے متعلق اہم پیش رفت ہوئی ہے۔یہ معاملہ قریب قریب حل ہوچکا ہے اور انھیں گھنٹوں یا دنوں میں حل کیا جاسکتا ہے''۔

ترکی کی قومی فضائی کمپنی کے ان دونوں پائیلٹوں کو لبنان کے ایک شیعہ گروپ نے دارالحکومت بیروت سے 9 اگست کو اغوا کر لیا تھا اور ان کے بدلے میں شام میں اغوا کیے گئے نو لبنانی شہریوں کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

ان نو لبنانی شہریوں کو مئی 2012ء میں شام میں یرغمال بنا لیا گیا تھا اور انھیں جمعہ کو رہا کردیا گیا ہے۔لبنانی وزیر داخلہ مروان شربیل نے ان کی رہائی کی اطلاع دی ہے اور کہا ہے کہ ''اب کہانی ختم ہوچکی ہے۔آیندہ چوبیس گھنٹے میں وہ ہمارے ساتھ (لبنان میں) ہوں گے''۔

جس شیعہ ملیشیا نے ترک ہوابازوں کو اغوا کیا تھا،لبنانی میڈیا نے اس کا نام ''زوارامام رضا'' بتایا ہے۔اس گروپ کے ارکان نے بیروت کے ہوائی اڈے کے نزدیک ترک پائیلٹ کی بس پر حملہ کرکے اس کو اور اس کے معاون کو اغوا کر لیا تھا۔

واضح رہے کہ بیروت کے بین الاقوامی ہوائی اڈے کے اس علاقے پر لبنان کی طاقتور شیعہ ملیشیا حزب اللہ کا کنٹرول ہے۔تاہم حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصراللہ نے ترک ہوابازوں کے اغوا کے واقعے میں اپنی تنظیم کے کسی بھی طرح ملوث ہونے کی تردید کی تھی۔