.

یمن میں بیش قیمت جہیز کے خلاف غیرشادی شدہ نوجوانوں کی مہم

جنوبی گاؤں کے نوجوانوں کا والدین سے صرف 1000ڈالرز مالیت کا جہیز دینے کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں غیر شادی شدہ نوجوانوں نے بیش قیمت جہیز کے خلاف مہم شروع کی ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ مقدار ایک ہزار ڈالرز تک مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق عیدالاضحیٰ کے دوسرے روز بیسیوں نوجوانوں نے دارالحکومت صنعا سے جنوب میں واقع گورنری تعز کے ایک گاؤں الجرف میں جہیز کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا اور شادی پرکم مالیت کا جہیز دینے کا مطالبہ کیا۔

العربیہ کو ملنے والی اطلاع کے مطابق نوجوانوں نے یہ مظاہرہ ایک لڑکی کے والد کی جانب سے جہیز کی مالیت پانچ لاکھ یمنی ریال (ڈھائی ہزار ڈالرز) تک بڑھانے کے خلاف کیا ہے۔مظاہرین گاؤں کے گھر گھر گئے اور انھوں نے والدین اور قبائلی زعماء کو ایک دستاویز پر دستخط کرنے پر مجبور کیا جس میں ان سے وعدہ لیا گیا ہے کہ وہ جہیز کی مالیت کو دولاکھ ریال (ایک ہزار ڈالرز) سے نہیں بڑھائیں گے۔

مظاہرین نے دھمکی دی ہے کہ اگر دستاویز پر دستخط کرنے والوں نے اس کی خلاف ورزی کی تو وہ اپنے مطالبات میں اضافہ کردیں گے۔جہیز کی لعنت کے خلاف مہم چلانے والے نوجوان گاؤں میں غیر شادی شدہ لڑکیوں کی بڑھتی ہوئی شرح کے پیش نظر یہ مہم چلا رہے ہیں اور ان کا خیال ہے کہ جہیز کی مقدار کم ہونے سے والدین اپنی بیٹیوں کو جلد بیاہ سکیں گے۔

واضح رہے کہ یمن میں غربت اور بے روزگاری کی بلند شرح کی وجہ سے لڑکیوں کی ایک بڑی تعداد غیرشادی شدہ ہی رہ جاتی ہے۔اس کے علاوہ قبائلی روایات کے تحت زیادہ جہیز دینے کی لعنت کی وجہ سے بھی بہت سے والدین اپنی بیٹیوں کے بروقت ہاتھ پیلے نہیں کرسکتے اور شادی کے انتظار میں ان کے سروں میں چاندی اتر آتی ہے۔

یمن کے ایک سماجی محقق مجیب عبدالوہاب نے العربیہ کو بتایا کہ ان علاقوں میں جہاں قبائلی اثرورسوخ زیادہ ہے،لڑکی کے والد سے تیس لاکھ ریال (پندرہ ہزار ڈالرز) مالیت تک جہیز دینے کے لیے کہا جاتا ہے۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ بعض علاقوں میں جہیز کی بلند شرح کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ بہت سی دلہنوں کے پاس امریکی پاسپورٹس ہوتے ہیں اور جہیز میں امریکا کے سفری اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔