.

سلامتی کونسل کا رکن نہ بننے کا سعودی فیصلہ جائز ہے، فرانس

سعودی دلائل ناقابل فہم اور فیصلہ حیرت انگیز ہے، روس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سلامتی کونسل کے دوہرے معیار کے باعث غیر مسقل رکن کے طور پر نشست نہ سنبھالنے کے سعودی فیصلے کو فرانس نے سراہتے ہوئے اس حقیقت سے اتفاق کیا ہے کہ سلامتی کونسل مشرق وسطی سے متعلق اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر سکی ہے۔

فرانس کے دفتر خارجہ کے ترجمان رومین ندال کے مطابق '' فرانس سعودی عرب کے ساتھ شام کے معاملے میں مسلسل رابطے میں ہے ۔ اس تناظر میں سعودی عرب کے سلامتی کونسل سے متعلق سعودی احساسات کے درست اور جائز سمجھتے ہوئے ان کی تائید کرتے ہیں، کیونکہ سلامتی کونسل کے عملا مفلوج ہو کررہ جانے کے بعد ان احساسات کا پیدا ہونا بلاجواز نہیں ہے۔'

سعودی عرب نے جمعرات کے روز سلامتی کونسل کے پہلی مرتبہ غیر مستقل رکن منتخب ہونے کے باوجود جمعہ کے روز اس کی رکنیت کو اختیار کرنے سے انکار کر دیا تھا۔

اس بارے میں سعودی عرب کا یہ موقف سامنے آیا تھا کہ '' سلامتی کونسل میں جو طریقے بروئے کار ہیں وہ دوہرے معیار پر مبنی ہیں، اس وجہ سے سلامتی کونسل عالمی امن کیلیے اپنا کردار کرنے سے قاصر ہے۔''

سعودی وزارت خارجہ نے یہ الزام بھی عاید کیا تھا کہ سلامتی کونسل شام کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے میں ناکام رہی ہےاور اس نے شام کے صدر بشارالاسد کو اپنے عوام کے خلاف جرائم کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔

سعودی وزارت خارجہ کا سلامتی کونسل کے بارے میں یہ بھی کہنا تھا کہ '' یہ فورم عشروں پر پھیلے مسئلہ فلسطین ایسے عالمی مسائل کے حل میں ناکام رہا ہے۔ اسی طرح مشرق وسطی کو تباہ کن ہتھیاروں سے پاک کرنے میں بھی کامیاب نہیں ہو سکا۔''

ماہرین کے مطابق اگر سعودی عرب سلامتی کونسل کی رکنیت اختیار کرنے سے انکار پر قائم رہا تو ایشیا پیسفک گروپ کواقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ایک نیا نام پیش کرنا ہو گا تاکہ اس سعودی فیصلے کی وجہ سے سلامتی کونسل کی خالی رہ جانے والی نشست کسی دوسرے ملک کے حوالے کی جا سکے۔

دریں اثناء روس نے سعودی عرب کے اس فیصلے پر تنقید کی ہے اور اس حوالے سے سعودی دلائل کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔روسی وزارت خارجہ کا کہنا ہے '' ہمیں حیرت ہوئی ہے کہ سعودی عرب نے ایک ایسا فیصلہ کیا ہے جو اس سے پہلے کبھی نہیں ہوا ۔