.

صومالی دہشت گرد تنظیم 'الشباب' کی نمایاں برطانوی مسلمانوں کو دھمکیاں

ویڈیو میں برطانیہ کے مختلف شہروں پر حملوں کی منصوبہ بندی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانوی پولیس نے لندن میں مقیم نمایاں مسلمانوں کو صومالیہ میں سرگرم انتہا پسند عسکریت پسندوں کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو کے بارے میں متنبہ کیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ 'یو ٹیوب' پر بدھ کے روز اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو کے بارے میں میڑوپولیٹن پولیس تفتیش کر رہی ہے۔ دھمکی آمیز ویڈیو کو اب یو ٹیوب سے ہٹا دیا گیا ہے۔

اسکاٹ لینڈ یارڈ کے ترجمان نے فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کو بتایا کہ "ویڈیو کے اجراء کے بعد سے ہم نے متعدد افراد سے بات کی ہے اور ہم سردست اس کے مندرجات کا جائزہ لے رہے ہیں۔"

برطانوی اخبار 'ڈیلی میل' کے مطابق معروف برطانوی مبلغ شہری انجم چوہدری کی گذشتہ دنوں کینیا کے دارلحکومت نیروبی کے ایک معروف شاپنگ مال حملوں میں ملوث ہونے کے بارے میں نشاندہی کی گئی ہے۔ انجم چوہدری مبینہ طور پر دہشت گردی کی متعدد کاررروائیوں میں ملوث ہے۔ ویڈیو میں اس کا ذکر کئی بار آیا ہے۔ ویڈیو میں امریکی صدر باراک اوباما اور برطانوی وزیر اعظم پر الزام لگایا گیا ہے کہ دونوں 'مسلمانوں کے خون کو پانی سمجھ کر ضائع کر رہے ہیں۔'

'گارجیئن' کے مطابق پولیس نے انتہاء پسندی کے خلاف بلند آہنگ سوچ رکھنے والے چار برطانوی مسلمانوں سے ملاقاتیں کی ہیں۔ مبینہ ویڈیو میں تجزیہ کاروں پر 'اسلامی تعلیمات کو مسخ' کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

معروف صحافی اور امام مسجد اجمل مسرور نے فیس بک پر اس امر کا اظہار کیا ہے کہ پولیس نے انہیں 'ہوشیار رہنے' کا انتباہ جاری کیا ہے۔ اس پیغام کا مقصد یہ باور کرانا تھا کہ میری زندگی کو دہشت گردوں سے فوری خطرہ لاحق ہے۔ تاہم امام مسرور کا کہنا تھا کہ وہ دھمکیوں سے مرعوب ہونے والے نہیں اور وہ انتہا پسندی اور دہشت گردی کے خلاف بلند آہنگ گفتگو کرتے رہیں گے۔

ایک اور فلم ساز اور صحافی محمد انصر نے بتایا کہ مقامی پولیس انکی رہائش گاہ کی نگرانی کر رہی ہے ۔ مائیکرو بلاگنگ فورم ٹویٹر پر انہوں نے ایک پیغام میں لکھا ہے کہ"اپنےعقائد اور تعلیمات کےامتحان کا وقت آ گیا ہے۔ یہ بہت بڑی بات ہوتی ہے کہ آپ اپنی اور اپنے چاہنے والوں کی زندگیوں کو خطرے میں ڈالنا بہت بڑی بات ہے۔"

'ولوچ حملہ: آنکھ کے بدلے آنکھ' کے عنوان سے جاری ہونے والے اس ویڈیو کو سائبر سپیس میں اسلام پسندوں کی ویب سائٹس کی نگرانی کرنے والے ادارے 'SITE' نے صومالی دہشت گرد گروپ کی کارستانی بتایا ہے۔ یہی تنظیم گذشتہ مہینے نیروبی کے ویسٹ گیٹ نامی شاپنگ مال میں دہشت گرد حملے میں ملوث بتائی جاتی ہے۔ ویڈیو کا عنوان گذشتہ مئی میں ولوچ، لندن میں دو نو مسلموں کے ہاتھوں مارے جانے والے برطانوی فوجی کے واقعے کی یاد دلاتا ہے۔ دونوں ملزمان کے خلاف اگلے مہینے قتل کے الزام میں مقدمہ چلایا جائے گا۔