شام سے متعلق جنیوا امن کانفرنس کب ہوگی؟شکوک برقرار

عرب لیگ کے سربراہ کا23 نومبر کو کانفرنس کا اعلان،الابراہیمی نے تردید کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی نے کہا ہے کہ شام کے بارے میں جنیوا امن کانفرنس 23 نومبر کو منعقد ہوگی۔

انھوں نے یہ اعلان قاہرہ میں تنظیم کے ہیڈکوارٹرز میں ایک اجلاس کے بعد کیا ہے لیکن شام کے لیے اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے خصوصی ایلچی الاخضرالابراہیمی نے اس کی تردید کردی ہے کہ جنیوا کانفرنس کے لیے کوئی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق الاخضر الابراہیمی نے کہا کہ ''شامی حزب اختلاف کی موثر نمائندگی کے بغیر یہ کانفرنس نہیں بلائی جاسکتی ہے''۔

شامی حزب اختلاف میں جنیوا میں مجوزہ کانفرنس میں شرکت کے حوالے سے اختلافات پائے جاتے ہیں اور حزب اختلاف کا قومی اتحاد اس حوالے سے آیندہ ہفتے رائے شماری کے ذریعے کوئی فیصلہ کرے گا۔

شامی قومی اتحاد میں شامل سب سے بڑے گروپ شامی قومی کونسل (ایس این سی) نے اس مجوزہ جنیوا دوم کانفرنس میں شرکت نہ کرنے کا اعلان کررکھا ہےاور کونسل کے صدر جارج صبرا کا کہنا ہےکہ ''اگر شام میں برسرزمین عوام مصائب کا شکار رہتے ہیں تو ایس این سی اسد رجیم کے خاتمے سے قبل مذاکرات کا حصہ نہیں بنے گی''۔

تاہم شامی حکومت یہ واضح کرچکی ہے کہ صدر بشارالاسد کی رخصتی کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے جبکہ شامی اپوزیشن کا سب سے بڑا مطالبہ یہی ہے کہ بحران کے حل اورعبوری حکومت کے قیام کے لیے صدربشارالاسد اقتدار چھوڑدیں۔

الاخضر الابراہیمی جنیوا امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوششوں کے ضمن میں مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں۔انھوں نے ہفتے کے روز قاہرہ میں مصری عہدے داروں سے ملاقاتیں کی تھیں۔بعد میں انھوں نے ایک بیان میں اس امید کا اظہار کیا کہ یہ کانفرنس منعقد ہوگی۔وہ شامی بحران کے حل کے لیے نئی سفارتی کوششوں کے ضمن میں مصر کے بعد شام اور ایران جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں