طوائف الملوکی کے بادِ مخالف میں تیر رہا ہوں: لیبی وزیراعظم

لیبیا اسلحے اور ملیشیاؤں سے لدا پڑا ہے لیکن ہمارے پاس جادو کی کوئی چھڑی نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

لیبیا میں سابق مردآہن کرنل معمر قذافی کی حکومت کے خاتمے اور ان کے باغی جنگجوؤں کے ہاتھوں وحشیانہ انداز میں قتل کے دوسال کے بعد بھی حالات درست نہیں ہوسکے اور وہاں طوائف الملوکی اور افراتفری کا دور دورہ ہے۔اس کا کسی اور نے نہیں خودوزیراعظم علی زیدان نے ایک بیان میں اعتراف کیا ہے۔

انھوں نے کرنل قذافی کی دوسری برسی کے موقع پر اتوار کو ایک بیان میں کہا کہ ''وہ ملک کے موجودہ حالات کے بادمخالف تیر رہے ہیں۔ان کا ملک ملیشیاؤں اور اسلحے سے لدا پڑا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے چیلنج کو قبول کیا تھا لیکن اس لیے نہیں کہ ہمارے پاس جادو کی کوئی چھڑی تھی''۔علی زیدان نے دارالحکومت طرابلس میں یہ بیان جاری کیا ہے۔انھیں ایک ہفتہ قبل اس شہر میں مسلح افراد نے اغوا کر لیا تھا اور کچھ دیر یرغمال بنائے رکھنے کے بعد چھوڑ دیا تھا۔

کرنل قذافی کو 20 اکتوبر 2011ء کو ان کے آبائی شہر سرت کے نزدیک تب ان کی حکومت کے خلاف ہتھیار اٹھانے والے باغیوں نے تشدد کا نشانہ بنانے کے بعد قتل کردیا تھا۔یہی باغی جنگجو اب لیبیا کی سکیورٹی فورسز میں بھی شامل ہوچکے ہیں لیکن ان میں سے بیشتر آزاد رہ کر بروئے کار ہیں اور کسی حکومتی کنٹرول میں نہیں۔وہ آئے دن حکومت کے لیے سردردی کا سبب بنتے رہتے ہیں اور جس علاقے میں چاہتے ہیں ،اپنی عمل داری قائم کر لیتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں