.

امریکا کی شام اور ایران پرسعودی غصہ ٹھنڈا کرنے کی کوشش

عرب گروپ کا سعودی عرب کو سلامتی کونسل کی نشست سنبھالنے پراصرار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی جانب سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی دوسال کے لیے غیر مستقل رکنیت کو ٹھکرانے کے بعد سے عالمی سطح پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے،سعودی عرب کے ہمنوا ممالک اس کے فیصلے کی تائید کررہے ہیں جبکہ بعض ممالک نے اس کے فیصلے کی مخالفت کی ہے اوراب امریکا بھی سعودی عرب کے شامی بحران اور ایران کے معاملے پر غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لیے میدان میں کود پڑا ہے۔

سعودی عرب نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا رکن نہ بننے کا سب سے بڑا جواز یہ پیش کیا ہے کہ کونسل نے عالمی تنازعات کے حوالے سے دُہرے معیارات اپنا رکھے ہیں۔اس کا واضح اشارہ امریکا اور اس کی ہم نوا مغربی طاقتوں کی جانب ہے۔امریکا کے ساتھ تناؤ کے اس ماحول میں سعودی وزیرخارجہ شہزادہ سعودالفیصل نے پیرس میں اپنی نجی رہائش گاہ پر سوموار کوامریکی وزیرخارجہ جان کیری کے اعزاز میں ایک ظہرانے کا اہتمام کیا ہے۔

ظہرانے پر دونوں وزرائے خارجہ کے درمیان اس ملاقات سے قبل امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سنئیر عہدے دار نے ایک بیان میں کہا کہ ''ہمیں توقع ہے کہ وہ ان تمام ایشوز پر تفصیل سے گفتگو کریں گے،جن میں ان کے درمیان عدم اتفاق پایا جاتا ہے تاکہ ان میں اختلافات کی خلیج کم سے کم ہوسکے''۔

اس امریکی عہدے دارنے برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''واشنگٹن اور ریاض ان مشترکہ مقاصد کے حوالے سے متفق ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں سے پاک ہونا چاہیے،شام میں خانہ جنگی کا خاتمہ اور مصر میں استحکام ہونا چاہیے لیکن ان کے درمیان اس بات میں اتفاق رائے نہیں ہے کہ ان مقاصد کو کیسے حاصل کیا جائے''۔

سعودی عرب نے گذشتہ جمعہ کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے شام میں گذشتہ ڈھائی سال سے جاری تنازعے کے حل کے لیے کوئی اقدام نہ ہونے کے ردعمل میں دوسال کے لیے رکنیت مسترد کردی تھی۔سعودی عرب پہلی مرتبہ سلامتی کونسل کا غیر مستقل رکن منتخب ہوا تھا۔

امریکی عہدے دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا کہ جان کیری سعودیوں کو اپنے فیصلے پر نظرثانی کے لیے تو نہیں کہیں گے۔البتہ وہ سلامتی کونسل کی رکنیت کے فوائد سے آگاہ کریں گے کیونکہ کونسل کسی ملک کے خلاف فوجی کارروائی کا اختیار رکھتی ہے،پابندیاں عاید کرسکتی ہے اور امن کارروائیوں کے لیے فوج بھیج سکتی ہے۔

تاہم سلامتی کونسل شامی بحران کے حل کے لیے اتفاق رائے سے کوئی اقدام کرنے میں ناکام رہی ہے۔سعودی عرب پہلے تو صرف روس اور چین سے شام کے حوالے سے نالاں تھا مگراب وہ امریکا سے بھی مایوس ہوچکا ہے۔امریکا اورروس کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے معاہدے سے اب شامی صدر بشارالاسد کے خلاف فوجی کارروائی کا امکان ختم ہوچکا ہے۔

سعودی عرب کو اب امریکا اور ایران کے درمیان جوہری پروگرام کے بارے میں مصالحتی سلسلہ جنبانی شروع ہونے پر بھی تشویش لاحق ہے اوراسے یہ خدشہ لاحق ہے کہ امریکا اور ایران کے درمیان مفاہمت سے خطے کی سیاست میں اسے بالآخر نقصان پہنچ سکتا ہے۔

خلیجی عرب ریاستوں اور مصر نے سعودی عرب کے سلامتی کونسل کی نشست کو ٹھکرانے کے فیصلے کی تائید کی ہے لیکن اقوام متحدہ میں عرب گروپ نے سعودی عرب پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے فیصلے پر نظرثانی کرے اور سلامتی کونسل میں عرب ایشوز کے دفاع کے لیے دلیرانہ کردار ادا کرے۔