ایران کا اقوام متحدہ میں اصلاحات کا مطالبہ

''ترقی پذیرممالک کو نئی ٹیکنالوجیز سے استفادے کے یکساں مواقع مہیا کیے جائیں''

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران نے اقوام متحدہ میں ترقی پذیر ممالک کا کردار بڑھانے کے لیے اصلاحات کا مطالبہ کیا ہے۔

ایران کی جانب سے یہ مطالبہ نائب وزیرخارجہ عباس عرقچی نے تہران میں اقوام متحدہ کے منشور کی منظوری کی اڑسٹھویں سالگرہ کے موقع پر منگل کو منعقدہ تقریب میں کیا ہے۔ایران کی ایسنا نیوز ایجنسی کے مطابق عباس عرقچی نے کہا کہ ''اقوام متحدہ کو عالمی سیاسی اور اقتصادی منظرنامے میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے لیے بنیادی اصلاحات پر عمل درآمد کی ضرورت ہے''۔

انھوں نے کہا کہ ''ان اصلاحات کا اظہار گلوبل آرڈر میں تبدیلی سے بھی ہونا چاہیے۔خاص طورپر ترقی پذیر ممالک کے کردار کو بڑھایا جائے،ان ممالک کو اپنی قسمت کے فیصلے خود کرنے کی اجازت دی جائے اور انھیں نئی ٹیکنالوجیز سے استفادے کے یکساں مواقع مہیا کیے جائیں''۔

عباس عرقچی نے اپنے ملک کے جوہری پروگرام پر پیش رفت کے ردعمل میں اقوام متحدہ اور مغرب کی عاید کردہ اقتصادی پابندیوں پر بھی کڑی تنقید کی اور کہا کہ ''ان غیر قانونی ،غیرانسانی اور جابرانہ پابندیوں کا ہدف ایرانی شہری بن رہے ہیں۔اس کے علاوہ صحت ،تعلیم اور غربت کے خاتمے سے متعلق ترقیاتی پروگرام بھی ان پابندیوں کا ہدف ہیں''۔

انھوں نے کہا کہ ''ترقی پذیر ممالک کے خلاف اس طرح کی غیر منصفانہ پابندیوں کا نفاذ نہ صرف اقوام متحدہ کے منشور کے منافی ہے بلکہ اس سے دنیا کے امن اور سلامتی کو بھی سنجیدہ خطرات لاحق ہوگئے ہیں''۔

تقریب میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کی منتظم ہیلین کلارک بھی موجود تھی۔واضح رہے کہ ایران اس وقت غیر وابستہ تحریک کے رکن ممالک کی تنظیم کا صدر ملک ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں