تمام شامی حزب اختلاف جنیوا امن مذاکرات میں شرکت کرے:برطانیہ

شام کے فریقین میں سے کوئی بھی میدان جنگ میں جیتنے کی پوزیشن میں نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے شامی حزب اختلاف کے تمام عناصر پر زوردیا ہے کہ وہ جنیوا میں آیندہ ماہ ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت کریں۔

ولیم ہیگ نے شامی حزب اختلاف کے مختلف گروپوں سے یہ مطالبہ لندن میں ''لندن 11'' ممالک کے اجلاس سے قبل کیا ہے۔شام میں صدر بشارالاسد کی فوج کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کے مختلف گروہ اور حزب مخالف کے مختلف دھڑے جنیوا میں امن مذاکرات میں شرکت کے مخالف ہیں اور وہ شامی حکومت سے کسی بھی سطح کی بات چیت سے قبل صدر بشارالاسد کے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔

برطانوی وزیر خارجہ نے اسد حکومت سے مذاکرات کی مخالفت کرنے والے حزب اختلاف کے ان عناصر سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ جنیوا میں مجوزہ امن کانفرنس میں ضرور شرکت کریں۔انھوں نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر حزب اختلاف کے دھڑے شام میں امن عمل کا حصہ نہیں بنتے تو پھر شامی عوام کے پاس بشارالاسد اور انتہا پسندوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا آپشن ہی رہ جائے گا۔

انھوں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر شام جاری تنازعہ طول پکڑتا ہے تو یہ زیادہ فرقہ وارانہ شکل اختیار کرے گا اور زیادہ انتہا پسند ملک کو کنٹرول کرنے کے قابل بن جائیں گے۔اسی لیے اب جنیوا امن عمل کو آگے بڑھانے کے لیے نئے سرے سے کوششیں کی جارہی ہیں۔تاہم ان کا بھی یہ تجزیہ تھا کہ شام کے دونوں فریقوں میں سے کوئی بھی میدان جنگ میں جیتنے کی پوزیشن میں نہیں۔

اقوام متحدہ اور عرب لیگ کے شام کے لیے خصوصی ایلچی لخضرالابراہیمی بھی جنیوا میں امن کانفرنس کے انعقاد کے لیے کوشاں ہیں اور انھوں نے گذشتہ روز خانہ جنگی کا شکار شام میں مفادات رکھنے والے تمام ممالک پر زوردیا تھا کہ وہ جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت کریں۔

البتہ ابھی جنیوا امن کانفرنس کی تاریخوں پر کوئی اتفاق رائے نہیں ہوا۔شام کے نائب وزیراعظم قدری جمیل اور عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر نبیل العربی نے اسی ہفتے 23 نومبر کو جنیوا امن کانفرنس منعقد ہونے کا اعلان کیا تھا لیکن امریکا ،روس اور اقوام متحدہ نے اس تاریخ سے اتفاق نہیں کیا اور ان کا کہنا ہے کہ ابھی باضابطہ طور پر جنیوا امن کانفرنس کی تاریخ مقرر نہیں کی گئی ہے۔

لندن گیارہ میں شامل ممالک برطانیہ ،مصر ،فرانس ،جرمنی ،اٹلی ،اردن ، قطر ،سعودی عرب ،ترکی ،متحدہ عرب امارات اور امریکا کے وزرائے خارجہ اور حکام مجوزہ جنیوا کانفرنس کے ایجنڈے اور شامی حزب اختلاف کو اس میں شرکت پر آمادہ کرنے کے حوالے سے آج کے اجلاس میں تبادلہ خیال کرنے والے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں