برونائی دارالسلام میں اپریل 2014ء سے شرعی سزاؤں کے نفاذ کا اعلان

اللہ تعالیٰ نے انصاف کے حصول کے لیے قوانین وضع کیے ہیں: سلطان حسن البولکیہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جنوب مشرقی ایشیا میں واقع چھوٹی اسلامی ریاست برونائی دارالسلام کے سلطان حسن البولکیہ نے اپریل 2014ء سے ملک میں شرعی سزاؤں کے نفاذ کا اعلان کیا ہے۔

سڑسٹھ سالہ سلطان نے منگل کو اسلامی سزاؤں کے نفاذ کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ''اللہ تعالیٰ نے ہمارے لیے قوانین وضع کیے ہیں تاکہ ہم انصاف کے حصول کے لیے ان کو بروئے کار لائیں''۔

سلطان کے اعلان کے مطابق ملک میں نافذ کی جانے والی نئی شرعی سزاؤں کے تحت اب ناجائز جنسی تعلقات (زنا) کے مرتکب غیرشادی شدہ مردوں اور عورتوں کو کوڑے مارے جائیں گے اور زنا کے مرتکب شادی شدہ مردوں اور عورتوں کو سنگسار کیا جائے گا۔

تیل کی دولت سے مالامال اس ملک کی کل آبادی صرف قریباً چارلاکھ نفوس پر مشتمل ہے اور سلطان حسن البولکیہ دنیا کی امیر ترین شخصیات میں سے ایک ہیں۔انھوں نے اس سے پہلے ؁ 1996ء میں اسلام کی فوجداری سزائیں اپنی ریاست میں متعارف کرائی تھیں۔

برونائی میں اس کے پڑوسی ممالک ملائشیا اور انڈونیشیا کے برعکس راسخ العقیدہ اسلام کی پیروی کی جا رہی ہے۔ سلطنت میں شراب کی فروخت اور اس کا استعمال ممنوع ہے اور دوسرے مذاہب کے پیروکاروں کی سرگرمیوں کی بھی کڑی نگرانی کی جاتی ہے لیکن اسلامی قوانین کا صرف مسلمانوں پر اطلاق کیا جاتا ہے۔

برونائی کی قریباً ستر فی صد آبادی مسلمان ہے اور وہ مالے نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ پندرہ فی صد آبادی غیر مسلم چینی عیسائیوں پر مشتمل ہے۔ باقی پندرہ فی صد میں مقامی قبائلی اور دوسرے غیر مسلم گروپ شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں