تمام ملکوں میں عوام کی جاسوسی معمول ہے: وائٹ ہاوس

فرانسیسی صدر نے جاسوسی کی اطلاعات پر اوباما سے شکوہ کیا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

فرانس کے صدر ہالینڈ نے اپنے امریکی ہم منصب اوباما سے ٹیلی فونک گفتگو میں فرانسیسی شہریوں کی جاسوسی کرنے پر ناپسندیدگی کا اظہار کیا ہے۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق فرانسیسی صدر ہالینڈ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں یہ واضح کیا گیا کہ انہیں ایسی کسی بھی جاسوسی کی حرکت سے انتہائی مایوسی ہوئی ہے۔

فرانس کے صدر کا کہنا ہے فرانس کے شہریوں کی بنیادی آزادی میں خلل پر مبنی یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان جاری خوشگوار تعلقات میں خلیج آ سکتی ہے۔

فرانسیسی صدر نے جلد وضاحت طلب کرتے ہوئے کہا کہ انہیں تمام معلومات فراہم کی جائیں کہ آیا این ایس اے کے سابق کنسلٹنٹ ایڈورڈ سنوڈن کی وجہ سے انہیں ان حالات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

خبر رساں ادارے نے واضح کیا کہ فرانسیسی اخبار لی مونڈے کے مطابق دونوں رہنما اس بات پر متفق ہیں کہ نگرانی کی سرگرمیوں سے متعلق حقائق اور دائرہ کار کے مطابق مل کر کام کیا جائے۔

ہالینڈ اور اوباما کی جانب سے یہ واضح کیا گیا ہے کہ نگرانی کا آپریشن باہمی طریقے سے مل جل کر کیا جائے۔ امریکی اور فرانسیسی انٹیلیجنس ایجنسیوں کو بھی اس معاملے کو باہمی طریقے سے حل کرنا چاہیے۔

ہالینڈ نے اوباما سے ٹیلی فونک گفتگو میں مزید کہا کہ لاکھوں فرانسیسی شہریوں کی جاسوسی کرنا دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کا باعث بن سکتا ہے۔ فرانس کے وزیر خارجہ نے جاسوسی کی رپورٹس پر امریکی سفیر سے وضاحت طلب کی ہے۔

واضح رہے دعوی یہ کیا گیا ہے کہ ایک ماہ کے دوران کم از کم ستر ملین فرانسیسی شہریوں کے فون ریکارڈ کیے گئے۔ لیکن وائٹ ہاوس کی جانب سے فرانس کے اس مبینہ الزام کو یہ کہتے ہوئے رد کر دیا گیا کہ تمام ممالک میں ایسے خفیہ آپریشن معمول کی بات ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں