مذاکرات میں شرکت: شامی اپوزیشن کی بشارالاسد کی رخصتی کی شرط

موجودہ صورت حال میں جنیوا گئے تو شامی عوام ہمیں غدار سمجھیں گے: احمد الجربا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

شامی حزب اختلاف نے صدر بشارالاسد کی رخصتی کے بغیر جنیوا میں مجوزہ امن مذاکرات میں شرکت سے انکار کردیا ہے اور شامی قومی اتحاد کے صدر احمد الجربا آج منگل کو لندن میں عرب اور مغربی اتحادیوں کو اپنے اس فیصلے سے آگاہ کردیں گے۔

رائیٹرز کے مطابق احمد الجربا ''دوستان شام ممالک'' کے اجلاس کے لیے لکھی اپنی تقریر میں یہ واضح کریں گے کہ اگرصدربشارالاسد کے خلاف عوامی بغاوت کا بنیادی مقصد ہی حاصل نہیں ہوتا تو شامی حزب اختلاف جنیوا امن مذاکرات میں شرکت کرکے اپنی ساکھ اور اعتباریت کھونے کا خطرہ نہیں مول لے گی۔

انھوں نے کہا کہ شام میں عوامی مزاحمتی تحریک کا بنیادی مقصد بشارالاسد کی اقتدار سے رخصتی ہے اور اس کے حصول کے بغیر شامی حزب اختلاف جنیوا مذاکرات میں شرکت نہیں کرسکتی۔انھوں نے کہا کہ ''اگر ہم موجودہ صورت حال میں مذاکرات میں شریک ہوتے ہیں تو لوگ ہم پر یقین نہیں کریں گے اور ہمیں انقلاب اور باغیوں کے خون کا غدار قراردیں گے''۔

مضبوط درخواست

دوسری جانب مغربی ممالک اور ان کے مشرق وسطیٰ میں اتحادی شامی حزب اختلاف کے قومی اتحاد پر زور دے رہے ہیں کہ وہ جنیوا دوم مذاکرات میں ضرور شرکت کریں حالانکہ بشارالاسد یہ واضح کرچکے ہیں کہ وہ اقتدار نہیں چھوڑیں گے بلکہ انھوں نے اپنے تازہ انٹرویو میں یہ ارشاد کیا ہے کہ ان کے دوبارہ صدارتی انتخاب لڑنے میں کوئی امر مانع نہیں ہے۔

لیکن احمد جربا نے اپنی تقریر کے مسودے میں واضح کیا ہے کہ ''اگر بشارالاسد کو اپنے ہی عوام کا خون بہانے کے لیے مزید وقت دیا جاتا ہے اور دنیا یہ سب کچھ دیکھتی رہتی ہے تو پھر جنیوا مذاکرات کامیاب نہیں ہوسکتے اور ہم بھی ان میں شرکت نہیں کرسکتے''۔انھوں نے کہا کہ ''سلطان کو اقتدار چھوڑنا ہوگا''۔ان کا اشارہ بشارالاسد کی جانب تھا۔

لندن میں گیارہ ممالک کے اس اجلاس کی میزبانی برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ کررہے ہیں۔انھوں نے قبل ازیں ایک بیان میں شامی حزب اختلاف کے تمام عناصر پر زوردیا ہے کہ وہ جنیوا میں آیندہ ماہ ہونے والے مجوزہ امن مذاکرات میں ضرور شرکت کریں۔

انھوں نے بی بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''اگر حزب اختلاف کے دھڑے شام میں امن عمل کا حصہ نہیں بنتے تو پھر شامی عوام کے پاس بشارالاسد اور انتہا پسندوں میں سے کسی ایک کے انتخاب کا آپشن ہی رہ جائے گا''۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں