پاکستان پر ڈرون حملے غیر قانونی اور بلاجواز ہیں: ایمنسٹی

خواتین بچے اور مزدور بھی ڈرون حملوں کا نشانہ بنتے رہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے پاکستان میں امریکی میزائل بردار ڈرونز طیاروں کے حملوں کو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی پر مبنی قرار دیا ہے۔ امریکا کو ان غیر قانونی حملوں کے ذمہ داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا چاہیے۔

اس امر کا مطالبہ دنیا بھر میں بنیادی انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم ایمنسٹی نے ایک ایسے موقع پر کیا جب پاکستان کے وزیر اعظم امریکی دورے پر ہیں اور ان کی ملاقات صدر اوباما سے ہونے جا رہی ہے، میاں نواز شریف ایک روز پہلے ہی امریکی سی آئی اے کے سربراہ سے ایک ملاقات کر چکے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اس مطالبے کے ساتھ پاکستان میں اب تک کی مجموعی ہلاکتوں اور جنوری 2012ء سے اگست 2013ء کے تفصیلی واقعات کا ذکر بھی کیا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق 2004ء سے اب تک تقریبا 3600 افراد کی جان 400 کے قریب ڈرون حملوں میں لی جا چکی ہے۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے دوٹوک موقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے پاکستان میں امریکی سی آئی اے کے حملوں کا کوئی جواز نہیں ہے، بے گناہوں کو مارنے کے باعث امریکا کیخلاف جنگی جرائم کا مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

اس رپورٹ میں عام بے گناہ شہریوں، خواتین اور بچوں کے مارے جانے کے علاوہ میرانشاہ اور ملحقہ علاقوں میں سکولوں کو بھی نشانہ بنائے جانے کی نشاندہی کی گئی ہے۔

دوسری جانب امریکا ڈرون حملوں کو دہشت گردی کے خلاف انتہائی موثر ہتھیار سمجھتا ہے، خصوصا قبائلی علاقوں میں مبینہ طور پر چھپے ہوئے القاعدہ اہلکاروں کے خلاف یہی ایک کارگر طریقہ ہے۔ امریکا کا ان متنازع ڈرون حملوں کے بارے میں یہ بھی کہنا ہے کہ تمام حملے انٹیلی جنس اداروں کی فراہم کردہ اطلاعات کی بنیاد پر اور قانون کے مطابق کیے جاتے ہیں۔

اس سے پہلے امریکی صدر اوباما ماہ مئی میں یہ کہہ چکے ہیں ڈرون حملے قانونی ہیں اورامریکا کیخلاف دہشت گردی کے خاتمے کی خاطر ضروری ہیں. ایمنسٹی انٹرنیشنل نے منگل کے روز جاری کردہ اپنی رپورٹ میں جنوری 2012 سے اگست 2013 کے درمیان ہونے والے ڈرون میزائل حملوں کا جائزہ لیا ہے۔

انسانی حقوق کے لیے سرگرم اس ادارے نے افغان سرحد سے متصل ایک گاوں پر ڈرون حملے میں مارے گئے 18 بے گناہ مزدوروں کا بھی حوالہ دیا ہے کہ ان مزدوروں نے ابھی رات کا کھانا کھانے ہی والے تھے کہ ڈرون سے فائر کیے گئے میزائلوں کی خوراک بن گئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں