چین نے شمالی کوریا جانے والا تیل بردار ایرانی بحری جہاز روک لیا

ایران، شمالی کوریا کو پانچ لاکھ ٹن مائع گیس فراہم کرنے کا پابند ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

چین کے حکام نے ایران سے شمالی کوریا تیل لے جانے والے ایک بحری جہاز کو روک لیا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق روکا جانے والا تیل بردار بحری جہاز چین کے قریب بحر الاصفر میں کھڑا ہے، تاہم یہ معلوم نہیں ہو سکا ہے کہ اسے کب روکا گیا تھا۔

جاپانی اخبار"اساھی چیمپون" کے مطابق ایرانی بحری جہاز پر"مائع" گیس کی بڑی مقدار لوڈ ہے۔ چینی کوسٹ گارڈ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی تیل بردار جہاز آبنائے"ڈالیان" میں کھڑا ہے جسے چین کے حکام نے تحویل میں لے رکھا ہے۔

قبل ازیں ایرانی خبر رساں ایجنسی"مہر" نے اپنی رپورٹ میں بتایا تھا کہ تہران، شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے ایک معاہدے کے تحت بیانگ یانگ کو پانچ لاکھ ٹن مائع گیس اور لائٹ ڈیزل فراہم کرنے کا پابند ہے۔ ایران نے شمالی کوریا کے لیے تیل کی برآمدات بڑھانے کے لیے گذشتہ برس ایک معاہدہ کیا تھا۔ تہران پرعائد عالمی اقتصادی پابندیوں کے بعد ایران اپنے تیل برادر جہازوں پر تیسرے ملک کا پرچم لہرا کرانہیں عالمی بحری حدود سے گذارنے کی کوششیں کر رہا ہے۔

جاپانی اخبار کے مطابق شمالی کوریا کے پاس تیل صاف کرنے کے بہتر انتظامات نہ ہونے کے باعث ایران سے درآمد شدہ تیل اور گیس کو پہلے مرحلے میں چین منتقل کیا جاتا ہے۔ ایران کے تیل بردار بحری جہاز کو روکے جانے کی وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ چینی مشینری کے استعمال کی بناء پر پیانگ یانگ کے ذمہ بیجنگ کے دو ملین ڈالر واجب الاداء ہیں اور چین اپنی یہ رقم وصول کرنا چاہتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں