.

القاعدہ کمانڈر اللیبی کی امریکی عدالت میں پیشی

تھکا ہوا اور پریشان لیبی عدالت میں صرف ہاں کہ سکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

القاعدہ کے مشتبہ کمانڈر ابو انس اللیبی کے خلاف نیویارک کی ایک عدالت میں مقدمے کی باضابطہ سماعت شروع کر دی گئی ہے۔ ابو انس اللیبی کو رواں ماہ کے شروع میں لیبیا کے دارالحکومت سے امریکی کمانڈوز کے ایک خصوصی دستے نے گرفتار کیا تھا۔

ابو انس اللیبی پر الزام ہے کہ تنزانیہ اور کینیا میں 1998 کے دوران امریکی سفارتکاروں پر ہونے والے حملوں کا اصل کردار یہی تھا۔ ان دونوں واقعات میں مجموعی طور پر دو سو چالیس سے زاید افراد مارے گئے تھے۔

49 سالہ لیبی کو جب امریکی عدالت میں پیش کیا گیا تو وہ سخت تھکا ہوا اور پریشان دکھائی دے رہا تھا۔ واضح رہے اسے ایک غیر معمولی قسم کی تفتیش کے مرحلے سے گذرنا پڑا ہے، کیونکہ امریکی کمانڈوز کے ہاتھوں گرفتاری کے بعد اسے امریکی بحری بیڑے پر لے جا کر کئی دنوں تک زیر تفتیش رکھا گیا تھا۔

سماعت کے سارے دورانیے میں لیبی صرف ایک مرتبہ اس وقت بولا جب اس سے پوچھا گیا تھا '' کیا وہ اس قانونی عمل میں اپنی نمائندگی سے مطمئن ہے؟ جس کے جواب میں اس نے عربی زبان میں ہاں کہا۔

مبینہ القاعدہ کمانڈر لیبی کے وکیل برناڈ کلینمین کا کہنا ہے کہ اسے کم از کم چھ ماہ درکار ہوں گے۔ وکیل کا کہنا تھا اس کی اپنے موکل سے صرف منگل کے روز ایک ملاقات ہوئی تھی، تاہم لیبی کے وکیل نے لیبی کے بیٹے کے اس دعوے کو غلط قرار دیا کہ لیبی بھوک ہڑتال پر ہے۔

یاد رہے لیبی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ہیپا ائٹس سی کا شکار ہے۔ البتہ وکیل نے علاج معالجے کی وجہ سے اس کی صحت کو بہتر بتایا ہے۔

دوسری جانب پراسیکیوشن کا کہنا ہے کہ لیبی کے خلاف شہادت کے طور پر کمپیوٹر کی دو ہارڈ درائیو، 35 ڈی وی ڈیز،اور دو لاکھ 75000 دستاویزات دس صندوقوں میں جمع کی گئی ہیں۔

امریکی حکومت نے عدالت سے درخواست کی ہے کہ لیبی کے ساتں دو دوسرے ملزمان کیخلاف بھی اکٹھا مقدمہ چلایا جائے کیونکہ تینوں ملزمان کے خلاف شہادتیں مشترکہ ہیں۔