.

ایران، برطانیہ سفارتی تعلقات ایک ہفتے میں بحال کرنے کا اعلان

کینیڈا میں اردن کے سفارت خانے میں اس مقصد کے لئے رابطہ دفتر قائم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران اور برطانیہ نے سفارتی تعطل ختم کرتے ہوئے ایک ہفتے میں سفارت کاروں کے تبادلے پراتفاق کیا ہے۔ ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مرضیہ افخم نے تہران میں ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ کینیڈا اور اٹلی کے ساتھ بھی سفارتی رابطے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کینیڈا میں اردنی سفارت خانہ جبکہ ایران میں اطالوی مفادات کے لیے اٹلی ہی کے سفارت خانہ میں عارضی طور پر ایک رابطہ دفتر قائم کیا جا رہا ہے۔

ایرانی وزارت خارجہ کی ترجمان مسز مرضیہ نے بتایا کہ تہران اور لندن کے باہمی سفارتی رابطے اگلے آٹھ روز میں بحال ہوجائیں گے۔ اس دوران دونوں ملک عبوری طور پر اپنے قائم مقام سفیروں کا اعلان کریں گے جس کے بعد ان کی تعیناتی عمل میں لائی جائے گی۔ انہوں نے بتایا کہ دونوں ملکوں کے درمیان گذشتہ دو سال سے سفارتی رابطے مکمل طور پر معطل رہے ہیں اور کسی تیسرے ملک کے ذریعے بھی کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔

خیال رہے کہ برطانیہ نے 2011ء میں تہران سے اپنے ہائی کمشنر کواس وقت واپس بلا لیا تھا جب باسیج ملیشیا کے اہلکاروں نے برطانوی سفارت خانے پر دھاوا بول کر توڑ پھوڑ کی تھی اور دفتری ریکارڈ قبضے میں لے لیا تھا۔ ایران میں رواں سال اصلاح پسند رہ نما حسن روحانی کے صدر منتخب ہونے کے بعد برطانوی وزیرخارجہ ولیم ہیگ نے دونوں ملکوں کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی کی امید ظاہر کی تھی۔

کینیڈا اور تہران کے درمیان بھی گذشتہ برس سفارتی تعطل اس وقت پیدا ہوا جب کینیڈین حکومت نے ایرانی سفارت کاروں کو پانچ روز کے الٹی میٹم کے بعد ملک سے نکال دیا تھا۔ کینیڈا کی جانب سے یہ اقدام ایران کے جوہری پروگرام پر کام جاری رکھنے، ملک میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور شام میں اسد رجیم کی حمایت کے خلاف بطور احتجاج کیا گیا۔ سفارتی تعطل کے بعد اقوام متحدہ کے دفترسے دونوں ملکوں نے رابطے بحال رکھے تھے۔