.

تیونس:قومی مذاکرات سے قبل حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

وزیراعظم علی العریض کی کابینہ کے استعفے کا اعلان متوقع،متحارب سیاسی دھڑوں کی ریلیاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں گذشتہ کئی ماہ سے جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے حکمراں جماعت النہضہ اور حزب اختلاف کے درمیان آج بدھ سے قومی مذاکرات کا آغاز ہورہا ہے لیکن حزب اختلاف کے سیکڑوں حامیوں نے اس سے قبل وزیراعظم علی العریض کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

ملک میں جاری سیاسی تعطل کے خاتمے کے لیے قومی مذاکرات کے انعقاد سے قبل حکومت اور حزب اختلاف کے حامیوں نے دارالحکومت تیونس کے حبیب بورقیبہ ایونیو میں احتجاجی مظاہروں کا اعلان کیا تھا۔

سیکولر حزب اختلاف کی جماعتوں پر مشتمل اتحاد کے ہسیکڑوں حامیوں نے تیونس احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور حکومت کے خلاف سخت نعرے بازی کی ہے۔مظاہرین نے النہضہ کی قیادت میں حکومت سے فوری طور پر مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا ہے۔

دوسری جانب حکومت کی حامی ملیشیا لیگ برائے تحفظ انقلاب نے بھی تیونس کی پہلی منتخب جمہوری حکومت کے دفاع میں مظاہرے کا اعلان کیا تھا لیکن اس کے حامی مظاہرے کے لیے زیادہ تعداد میں میدان نہیں آئے۔ہردوفریقوں کے مظاہروں کے پیش نظر ان کے درمیان تشددآمیز تصادم کا خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا۔

حکومت نے فریقین کے درمیان کسی قسم کی محاذآرائی سے بچنے کے لیے صبح سے ہی دارالحکومت تیونس کے وسطی علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی تھی اور اس نے جزوی طور پر ٹریفک کو بلاک کردیا تھا۔

قومی مذاکرات سے قبل وزیراعظم علی العریض نے اپنی کابینہ کا غیر معمولی اجلاس طلب کیا ہے اور وہ اس کے بعد گرینچ معیاری وقت کے مطابق 1330( جی ایم ٹی) پر ایک بیان جاری کرنے والے تھے۔

پارلیمان کے اسپیکر مصطفیٰ بن جعفر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ''انھیں توقع ہے وزیراعظم کابینہ کے استعفے کا اعلان کردیں گے اور اس کے بعد جولائی سے ملک میں جاری سیاسی بحران کے خاتمے کے لیے متحارب سیاسی دھڑوں کے درمیان مذاکرات کا آغاز ہوسکے گا''۔

تیونس میں سیاسی بحران کے آغاز کے بعد سے پارلیمان کا بائیکاٹ کرنے والے ساٹھ ارکان کا بھی کہنا ہے کہ انھیں حکومت کے مستعفی ہونے کی صورت میں قومی ڈائیلاگ کے آغاز کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔

وزیراعظم علی العریض اس سے پہلے یہ کہہ چکے ہیں کہ وہ نئے آئین کی منظوری کے بعد ہی مستعفی ہوں گے اور یہ نیا آئین مذاکرات کاروں کے اسی ماہ کے آغاز میں وضع کردہ نقشہ راہ کے مطابق منظور کیا جانا چاہیے۔

اس سیاسی نقشہ راہ کے مطابق تین ہفتے کے دوران قومی مذاکرات کے نتیجے میں ٹیکنوکریٹس پر مشتمل نئی کابینہ کی تشکیل کی جائے گی۔اس کے علاوہ مذاکرات کار ایک ماہ میں نئے آئین ،انتخابی قوانین اور نئے انتخابات کے نظام الاوقات کی منظوری دیں گے۔

واضح رہے کہ تیونس کی حزب اختلاف النہضہ کی قیادت میں حکومت پر جہادی تشدد اور معاشی بحران پر قابو پانے میں ناکامی کا الزام عاید کرتی رہی ہے۔حزب اختلاف نے جولائی میں ایک سرکردہ رکن پارلیمان محمد براہیمی اور اس سے قبل فروری میں حزب اختلاف کے ایک لیڈر کے قتل کا الزام انتہا پسندوں پر عاید کیا تھا۔

النہضہ کی قیادت جہادیوں سے نرم روی برتنے کے الزامات کو مسترد کرتی ہے اور اس کا کہنا ہے کہ حکومت نے جہادی گروپوں کے خلاف ایک بڑی فوجی کارروائی شروع کررکھی ہے اور گذشتہ ہفتے ہی دارالحکومت تیونس کے مغرب میں پولیس اہلکاروں پر حملے کے الزام میں نو مشتبہ جنگجوؤں کو ہلاک کردیا گیا تھا۔