.

سعودی عرب میں طلاق کے یومیہ 82 واقعات رجسٹرڈ ہونے لگے

علاحدگی کی بڑی وجہ زوجین کی بد دیانتی ہے: ماہرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں طلاق کے واقعات میں غیرمعمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق مملکت میں پچھلے ایک سال میں طلاق کے تیس لاکھ کیس رجسٹرڈ کیے گئے ہیں۔ یوں یہ شرح ایک گھنٹے میں تین اور یومیہ 82 واقعات تک جا پہنچی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی عرب خلیجی ممالک میں طلاق کے رجحان میں سلطنت عمان کے بعد دوسرے نمبر پر آ گیا ہے، جہاں رونما ہونے والے طلاق کے 92 فی صد واقعات میں سعودی شہریوں کے نام آتے ہیں۔

سعودی عرب میں سماجی اصلاح کے ادارے"مودت" کے چیئرمین بورڈ آف ڈائریکٹر ڈاکٹرانس عبدالوھاب زرعا نے ملک میں طلاق کے بڑھتے واقعات کے اسباب پر"العربیہ" ٹی وی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ "طلاق کے جو اعداد و شمار میڈیا میں آئے ہیں وہ واقعی خوفناک ہیں۔ ہمارا معاشرہ طلاق کے ناپسندیدہ عمل میں اس مقام تک جا پہنچا ہے جہاں سے آگے کی مزید گنجائش نہیں رہی ہے۔ ہمیں اب اس مسئلے کا کوئی ٹھوس حل تلاش کرنا ہو گا۔ یہ ریاست کے ساتھ ساتھ عوام اور معاشرے کی بھی ذمہ داری ہے"۔

ڈاکٹر انس نے بتایا کہ ان کی تنظیم "مودت" معاشرتی اصلاح کے کئی پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے، جن سے طلاق کے واقعات کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔

ایک سوال کے جواب میں عائلی امور کے ماہرڈاکٹرانس نے بتایا کہ پانچ سال قبل تک منشیات کا استعمال زوجین میں جھگڑوں اور طلاق کی بڑی وجہ تھی لیکن اب میاں بیوی کی بددیانتی سب سے بڑی وجہ سمجھی جا رہی ہے کیونکہ طلاق کے جتنے بھی واقعات ریکارڈ پر آئے ہیں ان میں سے بیشتر کی وجہ شوہر یا بیوی پر بد دیانتی کا الزام بتایا جا رہا ہے۔ اس کےعلاوہ مالی مسائل بھی طلاق کی ایک بڑی وجہ ہیں۔ سماجی رابطے کے لیے استعمال ہونے والے ذرائع بالخصوص "فیس بک" اور "ٹیوٹر" کے بڑھتے نیٹ ورک نے بھی میاں بیوی کے درمیان فاصلے پیدا کیے ہیں، جس نے معاشرے میں انتشار کو مزید ہوا دی ہے۔