.

لیبیا: قذافی کی برسی اور انقلاب کی سالگرہ پر سناٹا

کسی جگہ کوئی تقریب ہوئی نہ خوشی کا اظہار دیکھنے کو ملا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لیبیا کے اقتدار پر چالیس برس تک فائز رہنے والے کرنل معمر قذافی کی دوسری برسی خاموشی سے گزر گئی۔ یہ برسی اتفاق سے ان دنوں میں آئی ہے جب القاعدہ کے لیبیائی کمانڈر اللیبی کو پہلی مرتبہ امریکی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

اس موقع پر بد امنی اور خوف کے شکار لیبیا کے کسی بھی علاقے میں آمر سے نجات کی سالگرہ منائی گئی نہ کسی خوشی کا اظہار کیا گیا، البتہ وزیر اعظم علی بن زیدان جنہیں ان کی اپنی ہی وزارت داخلہ نے دس اکتوبر کو مبینہ طور پر گرفتار کیا تھا کی زیر قیادت حکومت نے ایک بیان جاری کیا ہے۔

سرکاری طور پر جاری کیے گئے بیان میں لیبیا کے عوام کو انقلاب کی سالگرہ پر مبارک باد دی گئی ہے۔

واضح رہے لیبیا کی حکومت ابھی تک استحکام کی تلاش میں ہے، اس مقصد کے لیے دو روز پہلے ہی نیٹو ماہرین کی مدد بھی حاصل کی گئی ہے۔

معمر قذافی کی دوسری برسی کے موقع پر دارالحکومت طرابلس اور دوسرے اہم شہر بن غازی میں کسی بھی جگہ کسی طرح کی کوئی سرگرمی دیکھنے میں نہیں آئی ہے۔

طرابلس کے رہائشی عبدالہادی السلطان کا اس بارے میں کہنا تھا ''لیبیا مین کچھ بھی تبدیل نہیں ہوا ہے، نہ ہی لیبیا بہتر ہو رہا ہے بلکہ یہ بدترین صورتحال کی طرف بڑھ رہا ہے کیونکہ ملک میں عملی طور پر عسکریت پسندوں کی حکومت ہے۔''

ایک لیبیائی وکیل فتحی کا اس موقع پر کہنا تھا ''میں چیزوں کو مثبت انداز سے دیکھتا ہوں، بلا شبہ آزادی کے ان دو برسوں کے دوران کچھ تلخیاں بھی آئی ہیں، جنک وجہ سے لوگوں کی اکثریت کے احساسات مجروح ہوئے ہیں لیکن انقلاب کے بعد ایسے حالات غیر فطری نہیں ہیں ''