.

ڈاکٹرآفریدی کی قسمت کا فیصلہ عدالت کرے گی:پاکستان کا امریکا کو جواب

القاعدہ کے سربراہ کا سراغ لگانے والا ڈاکٹر قومی ہیرو نہیں:سیکرٹری خارجہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پاکستان نے امریکا پر واضح کردیا ہے کہ القاعدہ کے لیڈر اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں سی آئی اے کو مدد دینے والا ڈاکٹر شکیل آفریدی کوئی ہیرو نہیں ہے اور اس کی قسمت کا فیصلہ عدالتیں کریں گے۔

پاکستان کے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے یہ بات واشنگٹن میں وزیراعظم میاں نوازشریف کی قیادت میں وفد اور امریکی ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے درمیان اجلاس کے موقع پر کہی ہے۔انھوں نے بتایا کہ پاکستان کا اعلیٰ سطح کا ایک وفد 12 نومبر کو امریکا کا دورہ کرے گا۔

اس اجلاس میں پاکستان کی جانب سے وزیرخزانہ سینیٹر اسحاق ڈار ،سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی اور وزیراعظم کے مشیر برائے امور خارجہ اور قومی سلامتی سرتاج عزیز شریک تھے۔اس اجلاس میں دہشت گردی کے خلاف جنگ ، لشکر طیبہ جیسے جنگجو گروپوں ،ڈرون حملوں ،توانائی کے بحران ،تعلیمی اصلاحات اور علاقائی استحکام اور تجارت کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا گیا۔

سیکرٹری خارجہ نے اجلاس کے شرکاء کو بتایا کہ لشکر طیبہ پر پاکستان میں پہلے ہی پابندی عاید ہے اور اس کے سربراہ حافظ محمد سعید کے خلاف ٹھوس شواہد فراہم ہونے کی صورت ہی میں کوئی کارروائی کی جاسکتی ہے۔

ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی سے متعلق خارجہ امور کمیٹی کے ارکان کے مطالبے کے جواب میں جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ ''امریکا کو باور کرادیا گیا ہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی ہیرو نہیں ہے،وہ فوجداری جرائم کے الزامات میں کیسوں کا سامنا کررہا ہے اور اس کی قسمت کا فیصلہ عدالتیں کریں گے''۔

بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق کیلی فورنیا سے تعلق رکھنے والے ری پبلکن پارٹی کے رکن کانگریس اور ایوان کی خارجہ امور کمیٹی کے چئیرمین ایڈورڈ رائیس نے پاکستانی وفد سے ڈاکٹر شکیل آفریدی کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف کالعدم جنگجو تنظیم لشکر اسلام اوراس کے سربراہ منگل باغ کے ساتھ تعاون کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا تھا اور وفاق کے زیرانتظام قبائلی علاقے خیبرایجنسی کے اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ نے گذشتہ سال انھیں جاسوسی اور بغاوت کے جرم میں فرنٹئیر کرائمز ریگولیشنز کے تحت 33 سال قید کی سزا سنائی تھی۔

لیکن اگست میں پاکستان کے وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقے (فاٹا) کے ایک اعلیٰ عدالتی عہدے دار نے امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کو القاعدہ کے مقتول سربراہ اسامہ بن لادن کی تلاش میں مدد دینے پرڈاکٹرشکیل آفریدی کو سنائی گئی 33 برس قید کی سزا کالعدم قرار دے دی تھی۔

کمشنر فرنٹئیر کرائمز ریگولیشن (ایف سی آر) صاحبزادہ انیس احمد نے اپنے حکم میں قرار دیا تھا کہ ڈاکٹر شکیل آفریدی کے خلاف مقدمے کی سماعت کرنے والے جج (پولیٹیکل ایجنٹ) نے گذشتہ سال فیصلہ سناتے وقت اپنے اختیارات سے تجاوز کیا تھا۔انھوں نے مقدمے کی ازسرنو سماعت کا حکم دیا تھا۔