جرمن چانسلر کے فون کی 'جاسوسی' پر امریکی سفیر کی طلبی

میرکل کے موبائل فون کی نگرانی کی، نہ کریں گے: اوباما

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

جرمن وزیر خارجہ گوئیڈو ویسٹلیولا نے جمعرات کے روز برلن میں امریکی سفیر کو دفتر خارجہ طلب کر کے ان سے اس خبروں کی صداقت کے بارے میں استفسار کیا ہے کہ امریکی خفیہ ادارے جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے موبائل فون سنتے رہے ہیں۔

وزارت خارجہ کی خاتون ترجمان نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ امریکی سفیر کو جمعرات کے روز دفتر خارجہ بلوایا گیا، جہاں ان کی ملاقات گوئیڈو ویسٹلیولا سے کرائی گئی، جنہوں نے امریکی سفیر کو واشنگٹن کے خفیہ اداروں کی جانب سے چانسلر میرکل کی فون کالز سننے کے معاملے پر جرمنی کے موقف سے آگاہ کیا گیا۔

یاد رہے کہ جرمن کی اعلی ترین قیادت کی امریکی خفیہ اداروں کی جانب سے مبینہ جاسوسی کا معاملہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے کہ جب یورپی یونین کے رکن ملکوں کے سربراہ جمعرات کے روز بروکسلز میں جمع ہو رہے ہیں۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے ترجمان نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ جرمن حکومت کو ایسی معلومات حاصل ہوئی ہیں کہ امریکی انٹیلیجنس ادارے میرکل کے موبائل ٹیلی فون کی جاسوسی کرتے رہے ہیں۔

جرمن چانسلر انجیلا میرکل کے ترجمان اشٹیفن زائیبرٹ کا کہنا ہے کہ میرکل نے موبائل فون کی جاسوسی کے بارے میں امریکی صدر باراک اوباما سے فون پر بات بھی کی ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ میرکل نے اوباما سے کہا ہے کہ اگر یہ معلومات درست ہیں تو یہ عمل کسی بھی طور پر قابل قبول نہیں اور اس حوالے سے امریکی حکومت کو جرمن حکومت کے سامنے وضاحت دینا چاہیے۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق امریکی صدر نے جرمن چانسلر کو یقین دلایا ہے کہ اس طرح کی کوئی کارروائی نہیں کی گئی ہے۔

خفیہ معلومات تک رسائی اور ’’سلامتی‘‘ کی غرض سے جاسوسی کے امریکی پروگرام ’’پرزم‘‘ کے لِیک ہو جانے کے بعد جہاں امریکی حکومت کو تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، وہاں یورپی ممالک کے عوام بھی امریکی خفیہ اداروں کے ساتھ اس ضمن میں اپنی حکومتوں کے مبینہ تعاون پر نالاں ہیں۔ امریکا کے قومی سلامتی کے ادارے این ایس اے کے پرزم پروگرام کے بارے میں معلومات امریکا کو مطلوب سابقہ کانٹریکٹر ایڈور سنوڈن نے افشا کی تھیں۔ سنوڈن ہانگ کانگ سے فرار اور پھر کئی ہفتے ماسکو ہوائی اڈے پر گزارنے کے بعد اب روس میں عارضی سیاسی پناہ حاصل کر چکے ہیں۔

اشٹیفن زائیبرٹ کا کہنا ہے کہ میرکل نے امریکا سے فوری اور مکمل وضاحت کا مطالبہ کیا ہے۔ ’’امریکا اور جرمنی کئی دہائیوں سے قریبی دوست اور اتحادی ہیں اور ان دونوں ممالک کے درمیان سربراہ مملکت کی اس طرح کی نگرانی بالکل نہیں ہونی چاہیے۔ یہ ایک طرح کا عدم اعتماد ہے۔‘‘

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے ان خبروں کی فوری تردید کرتے ہوئے بتایا ہے کہ صدر اوباما نے چانسلر میرکل کو یقین دہانی کرائی ہے کہ امریکا نہ ان کے موبائل فون کی نگرانی کر رہا ہے اور نہ ہی وہ کبھی ایسا کرے گا۔

کارنی کا یہ بھی کہنا تھا کہ اوباما اس بات کا از سر نو جائزہ لے رہے ہیں کہ امریکا کو کس طرح اپنے اتحادیوں اور عوام کی سلامتی اور ان کی نجی زندگی کے احترام کے درمیان ایک توازن رکھنا چاہیے۔

حال ہی میں فرانس نے بھی امریکا پر فرانس کے اندر ٹیلی فون کالز کی نگرانی کا الزام عائد کیا تھا۔

اگست کے مہینے میں ایک رپورٹ منظر عام پر آنے کے بعد، جس میں کہا گیا تھا کہ جرمنی کی وفاقی انٹیلیجنس ایجنسی (بی این ڈی) ای میل اور ایس ایم ایس ڈیٹا سمیت بڑے پیمانے پر معلومات این ایس اے کو پہنچا رہی ہے، جرمن دارالحکومت برلن میں ہنگامہ برپا ہو گیا تھا۔ یہ رپورٹ جرمن جریدے ڈیئر اشپیگل نے شائع کی تھی۔

ان خبروں کے منظر عام پر آنے کے بعد برلن کے علاوہ کئی جرمن شہروں میں حکومت مخالف مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ ان کے کوائف اور دیگر معلومات تک امریکا یا کسی اور کو رسائی نہیں دی جانی چاہیے۔

میرکل کی حکومت اپنے اوپر عائد ان الزامات کی تردید کرتی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ سن دو ہزار دو میں ایس پی ڈی کے چانسلر گیرہارڈ شروڈر کے دور حکومت میں انٹیلیجنس کے تبادلے کے حوالے سے جو معاہدہ ہوا تھا وہ اسی پر عمل درآمد کر رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں