.

شامی مہاجرین کے لیے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے بلغاریہ میں فنڈ ریزنگ

چار ہزار شامی پناہ گزین ملک میں کسمپرسی کا شکار ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں جاری خانہ جنگی سے تنگ عوام کی بڑی تعداد نہ صرف پڑوسی عرب ملکوں میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوئی ہے بلکہ بڑی تعداد میں یہ متاثرین یورپی ملکوں کا بھی رخ کر رہے ہیں۔ یورپی یونین کے رکن ملک بلغاریہ میں اب تک کم سے کم چار ہزار شامی پناہ گزین پہنچ چکے ہیں۔

شام سے جان بچا کر محفوظ مقامات کی جانب ہجرت کرنے والے یہ شہری اب بلغاریہ میں ایک نئی موت کا سامنا کر رہے ہیں۔ جہاں انہیں کھانے پینے اور پہننے کو کچھ میسر نہیں اورعالمی برادری ان کے مسائل کے حل میں ناکام رہی ہے۔ ان مشکل حالات میں انسانیت کا درد دل رکھنے والے بعض افراد نے انفرادی طور پر شامی پناہ گزینوں کی مدد کا بیڑا اٹھایا ہے لیکن ان کی مساعی بھی ناکافی ثابت ہو رہی ہیں۔

شامی پناہ گزینوں کی امداد کے لیے انفرادی سطح پر کی جانے والی کوششوں کے ضمن میں حال ہی میں کچھ بلغارین خواتین نے ڈانس پارٹیوں کے ذریعے فنڈ ریزنگ کا اہتمام کیا۔ گوکہ اس پارٹی میں بھی وہ محض 750 امریکی ڈالرکے مساوی رقم جمع کر پائی ہیں، تاہم انہیں توقع ہے کہ مخیرحضرات پریشان حال شامی بچوں اور خواتین کے لیے دل کھول کرامداد دیں گے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ نے بلغاریہ میں مقیم ایک صحافی کے توسط سے فنڈ ریزنگ کے لیے ڈانس پارٹی کااہتمام کرنے والی ایک سماجی کارکن کرینہ زخاریفہ رابطہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ ڈانس پارٹی کا اہتمام ایک مقامی عرب ریستوران میں کیا گیا۔ پارٹی میں غیر پیشہ ورآٹھ دوشیزاؤں نے مشرقی رقص کے ذریعے مخیرحضرات کو شامی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے رقوم فراہم کرنے کی اپیل کی۔

مسسز کرینہ نے بتایا کہ بلغاریہ میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق چار ہزار سے زائد شامی خواتین اور بچے پناہ حاصل کرچکے ہیں۔ خود بلغاریہ بھی دیگر یورپی ملکوں کی طرح امیر ملک نہیں ہے اور یہاں کی مقامی آبادی خود بھی مشکل سے گذر اوقات کرتی ہے۔ ایسے حالات میں شامی مہاجرین کی مشکلات مزید بڑھ جاتی ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں کرینہ زخاریفہ نے بتایا کہ محفل رقص میں شامل آٹھوں خواتین کا شو بزسے کوئی تعلق نہیں بلکہ ان میں سے بعض وکالت کرتی ہیں اور کچھ اسکول میں پڑھاتی ہیں۔ اس کے باوجود وہ مشرقی موسیقی اور رقص کی دلدادہ ہیں۔ انہوں نے آج تک کسی نائٹ کلب یا ہوٹل میں اس طرح کا رقص پیش نہیں کیا ہے۔ ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے۔

ایک اور دوشیزہ نے بتایا کہ انہوں نے ڈانس پارٹی کے دوران ساڑھے سات سو ڈالر رقم جمع کی۔ اگرچہ یہ شامی پناہ گزینوں کی ضروریات کی مناسبت سے ایک حقیر رقم ہے مگرانہیں امید ہے کہ اس خبر کے پھیلنے کے بعد شامی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والے ہاتھوں میں اضافہ ہو گا۔