ڈرائیونگ پرپابندی:سعودی حکومت کا خواتین کو مکرّرانتباہ

سعودی مملکت میں خواتین کی ڈرائیونگ پر مکمل پابندی عاید ہے:جنرل منصورالترکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی وزارت داخلہ نے کارڈرائیونگ پر پابندی کی خلاف ورزی کی کوشش کرنے والی خواتین کو ایک مرتبہ پھر انتباہ کیا ہے۔

سعودی وزارت داخلہ کے ترجمان جنرل منصورالترکی نے العربیہ سے گفتگو کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر واضح کیا ہے کہ ''سعودی مملکت کے اندر خواتین کی ڈرائیونگ پر مکمل پابندی عاید ہے''۔

وزارت داخلہ نے گذشتہ روز خواتین کارکنان کی جانب سے 26 اکتوبر کو ڈرائیونگ مہم کے تحت امن عامہ میں خلل ڈالنے والوں /والیوں کو انتباہ کیا تھا۔اس مہم کو چلانے والی خواتین کارکنان نے ڈرائیونگ کا بین الاقوامی لائسنس رکھنے والی خواتین پر زوردیا ہے کہ وہ اپنی کاروں پر مہم کا لوگو لگائیں اور حکومت کی پابندی کو توڑتے ہوئے کار چلانے کے لیے گھروں سے نکلیں۔

وزارت نے ایک مرتبہ پھر انتباہ کیا ہے کہ وہ پابندی کی خلاف ورزی کرنے والیوں کے خلاف قانون کا سختی سے نفاذ کرے گی لیکن خواتین کی ڈرائیونگ کے حق میں مہم چلانے والے کارکنان اس انتباہ کی سوشل میڈیا پر مختلف انداز میں تعبیروتشہیرکررہے ہیں۔ان کا کہنا ہے کہ گروپ کی شکل میں ڈرائیونگ کرنے والی خواتین کو انتباہ کیا گیا ہے،انفرادی طور پر کاریں چلانے والیوں کے لیے یہ انتباہ نہیں ہے۔

لیکن جنرل منصورالترکی نے واضح کیا ہے کہ اگر کوئی بھی عورت جو اس مہم حصہ نہیں ہے مگر وہ 26 اکتوبر بروز ہفتہ اپنی گاڑی چلائے گی تو اس کے ساتھ قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔انھوں نے یہ بات بھی زوردے کر کہی کہ مملکت میں ہر قسم کے اجتماعات پر پابندی عاید ہے۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق وزارت داخلہ کی جانب سے یہ سخت انتباہ جدہ میں علماء اور مذہبی اسکالروں کے احتجاج کے بعد جاری کیا گیا ہے۔احتجاجی مظاہرہ کرنے والے علماء کا کہنا تھا کہ ''حکام کار ڈرائیونگ پر عاید پابندی کی خلاف ورزی کرنے والی خواتین کو روکنے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کررہے ہیں''۔

سعودی عرب میں خواتین کو ڈرائیونگ سے روکنے کے لیے کوئی خاص قانون نہیں ہے لیکن وہ ڈرائیونگ لائسنس کے لیے درخواست نہیں دے سکتی ہیں۔خواتین کی ڈرائیونگ کے حامیوں کا کہنا ہے کہ پابندی کی وجہ سے خاندانوں پر ڈرائیور رکھنے کی صورت میں اضافی معاشی بوجھ پڑتا ہے اور خواتین اپنے روزمرہ کے امور بھی انجام نہیں دے سکتی ہیں۔

سعودی شوریٰ کونسل کی تین ارکان نے حال ہی میں یہ معاملہ کونسل میں زیر بحث لانے کی کوشش کی تھی لیکن دوسرے ارکان نے اس تحریک کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ یہ بالکل غیرمتعلقہ ایشو ہے اور اس پر بحث نہیں ہوسکتی۔واضح رہے کہ شوریٰ کونسل ایک سو پچاس ارکان پر مشتمل ہے اور اس کی تیس ارکان خواتین ہیں۔

سعودی خواتین کے حقوق کی علمبردار ایک تنظیم نے کار ڈرائیونگ کی اجازت کے حق میں ان دنوں ایک مہم برپا کررکھی ہے اور وہ سعودی خواتین پر زوردے رہی ہے کہ وہ 26 اکتوبر کو کاریں چلانے کے لیے گھروں سے باہر آئیں۔

گیارہ ہزار سے زیادہ خواتین نے oct26driving.com کے اعلامیے پر دستخط کررکھے ہیں۔اس اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ :''ریاست کی جانب سے بالغ اور ڈرائیونگ کی اہل خواتین پر پابندی کا کوئی واضح جواز پیش نہیں کیا گیا ہے۔ہمارا مطالبہ ہے کہ اہل خواتین کا ڈرائیونگ کا امتحان لیا جائے اور جو اس کو پاس کرلیں،انھیں لائسنس جاری کیے جائیں''۔

واضح رہے کہ سعودی عرب کی مذہبی پولیس (محکمہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر) کے سربراہ شیخ عبداللطیف آل شیخ نے اگلے روز ایک بیان میں کہا تھا کہ شریعت میں خواتین کی ڈرائیونگ پر کوئی پابندی نہیں ہے۔انھوں نے کہا کہ ان کے تقرر کے بعد سے ان کی پولیس نے کاریں چلانے والی خواتین کو نہیں روکا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں