غرب اردن: اسرائیلی وزیر کا آبادکاروں کے لیے 100 مکانوں کی تعمیر پر اصرار

الخلیل میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعداد دُگنا کرنے کی تیاریاں مکمل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

اسرائیل کے وزیرمکانات نے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ جاری امن بات چیت کے باوجود مغربی کنارے کے جنوبی شہر الخلیل میں یہودی آبادکاروں کے لیے مکانوں کی تعداد دُگنا پرزوردیا ہے۔

انتہا پسند یہودیوں کی جماعت ہوم پارٹی کے سربراہ یوری آریل نے آرمی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ''وہ الخلیل میں ایک سو نئے مکانوں کی تعمیر کے حق ہیں''۔انھوں نے کہا کہ ''ان مکانوں کی تعمیر کے لیے زمین موجود ہے اور ہم اس منصوبے پر عمل درآمد کے لیے تیار ہیں۔ہمیں امید ہے کہ ہم آیندہ سال تعمیر شروع کرسکیں گے''۔

یوری آریل خود بھی درانداز یہودی ہیں اور وہ مغربی کنارے میں ایک یہودی بستی میں رہ رہے ہیں۔الخلیل میں قریباً دولاکھ فلسطینی آباد ہیں۔شہر کے وسط میں صہیونی ریاست نے یہودی آباد کاروں کے لیے اس سے پہلے 80 مکانات تعمیر کررکھے ہیں جہاں قریباً سات سو یہودی اسرائیلی فوج کے مستقل پہرے میں رہ رہے ہیں۔

الخلیل میں یہودی آبادکار کو بسانے کا ایشو گذشتہ ماہ اس وقت سامنے آیا تھا جب فلسطینی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے ایک متنازعہ فلسطینی گھر میں یہودیوں کو دوبارہ بسانے پر زوردیا تھا اور انھوں نے یہ بھاشن 22 ستمبر کو ایک مسلح فلسطینی کے ہاتھوں ایک اسرائیلی فوجی کے قتل کے بعد دیا تھا۔

اسرائیلی حکومت نے گذشتہ سال قانونی وجوہ کی بنا پر پندرہ یہودی آبادکاروں کو اس مکان سے بے دخل کردیا تھا لیکن اب صہیونی فوجی کے قتل کے بعد انتہا پسند وزیراعظم ایک مرتبہ پھر یہودی آبادکاروں کو فلسطینی مکان پر قبضہ کرکے وہاں بسانے پر اصرار کررہے ہیں۔

واضح رہے کہ فلسطینی علاقے میں یہودی آبادکاروں کو بسانے کے ایشو پر ہی 2010ء میں فلسطینی اتھارٹی نے اسرائیل سے مذاکرات سے انکار کردیا تھا۔اب تین سال کے تعطل کے بعد امریکا کی ثالثی میں جولائی میں فریقین کے درمیان مذاکرات بحال ہوئے تھے۔ان مذاکرات کے حالیہ راؤنڈ میں فلسطینیوں نے مغربی کنارے میں یہودیوں کی آبادکاری کے لیے مکانوں کی تعمیر جاری رکھنے پر احتجاج کیا تھا اور امن عمل سے الگ ہونے کی بھی دھمکی دی تھی۔

اسرائیلی حکومت نے اگست میں مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں یہودی آبادکاروں کے لیے دوہزار نئے مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی تھی۔فلسطینی اتھارٹی نے صہیونی ریاست کی جانب سے مقبوضہ مغربی کنارے میں یہودی آبادکاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے پر اپنے سخت ردعمل کا اظہار کیا تھا اور کہا تھا کہ اسرائیل تنازعے کے دوریاستی حل کے ہر امکان کو ختم کرتا جارہا ہے۔

یادرہے کہ اسرائیلی فوج نے 1967ء کی جنگ میں مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارے پر قبضہ کیا تھا اور بعد میں القدس شہر کو صہیونی ریاست میں ضم کرلیا گیا تھا لیکن عالمی برادری نے اسرائیلی حکومت کے اس اقدام کو کبھی تسلیم نہیں کیا۔

عالمی برادری فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاروں کے لیے بستیوں کو غیرقانونی قرار دیتی ہے۔ان میں دونوں قسم کی بستیاں شامل ہیں خواہ ان کی منظوری دی گئی تھی یا انھیں یہودیوں نے خود ہی غیر قانونی طور پر تعمیر کرلیا تھا۔اب تک مقبوضہ مغربی کنارے میں تین لاکھ بیس ہزار سے زیادہ یہودی آبادکاروں کودوسرے علاقوں سے لاکر بسایا جاچکا ہے اور ان کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جارہا ہے۔ان کے علاوہ دولاکھ یہودی آباد کار مقبوضہ بیت المقدس میں رہ رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں