مالی:فرانسیسی فوج کی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی

آیندہ ماہ عام انتخابات کے انعقاد سے قبل جنگجوؤں کے راکٹ اور بم حملوں میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

افریقی مسلم ملک مالی میں فرانس ،اقوام متحدہ اور خود مالی کی سرکاری فورسز اسلامی جنگجوؤں کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کررہی ہیں تاکہ وہ دوبارہ سر نہ اٹھا سکیں۔

فرانسیسی فوج کے ترجمان کرنل گائیلس جیرون نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ ''ہم اس ملک کے شمال میں مالی کی فوج اور اقوام متحدہ کے مشن میں شامل فورسز کے ساتھ مل کر ایک بڑا آپریشن کررہے ہیں''۔

ترجمان کے بہ قول یہ پہلا موقع ہے کہ فورسز کی بڑی تعداد مل کرجنگجوؤں کی بیخ کنی کے لیے بروئے کار ہے۔ترجمان نے کہا کہ سیکڑوں فرانسیسی فوجی اس کارروائی میں حصہ لے رہے ہیں لیکن ان کی حقیقی تعداد نہیں بتائی جبکہ دوسری فورسز کی تعداد بتانے سے بھی گریز کیا ہے۔

فرانسیسی فوج کے ترجمان نے کہا کہ اس مشن کا مقصد دہشت گردوں کی کسی بھی تحریک کو دوبارہ سر اٹھانے سے روکنا ہے اور یہ اس ملک کے استحکام کے لیے باقاعدگی سے کی جانے والی کارروائیوں میں سے ایک ہے۔

یہ واضح نہیں ہوا کہ یہ آپریشن کب سے کیا جارہا ہے لیکن اس کا اعلان بدھ کو شمالی مالی میں مسلح جنگجوؤں کے حملے میں اقوام متحدہ کی امن فورس میں شامل چاڈ کے دوفوجیوں اور ایک شہری کی ہلاکت کے بعد کیا گیا ہے۔

القاعدہ سے وابستہ جنگجوؤں نے شمالی قصبے تصلیت میں فورسز کے ایک چیک پوائنٹ پر حملے کی ذمے داری قبول کی ہے۔اس حملے کے فوری بعد اقوام متحدہ کے مالی میں مشن نے مزید فوجی بھیجنے کی درخواست کی تھی جبکہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔

براعظم افریقہ کے مغرب میں واقع اس شورش زدہ ملک میں آیندہ ماہ عام انتخابات ہونے والے ہیں۔ان کے انعقاد سے قبل اقوام متحدہ کی امن فورس پر جنگجوؤں کے راکٹ حملوں اور بم حملوں میں تیزی آئی ہے اور وہ آئے دن عالمی فورسز پر حملے کرتے رہتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں