.

امریکا: سیمنٹ اور گیلو کے ٹیکے لگانے والا جعلی بیوٹی سرجن گرفتار

سیمٹ کے ٹیکے لگانے سے خاتون کی جان چلی گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی ریاست فلوریڈ کی عدالت نے ایک جعلی [پلاسٹک] بیوٹی سرجن کو اپنی خواتین مریضوں کوسیمنٹ اورگیلو کے ٹیکے لگانے کی پاداش میں ایک سال جیل بھجوانے کا حکم دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی "اے ایف پی"کے مطابق مبینہ جعلی پلاسٹک سرجن اونیئل رون موریس نے اعتراف کیا ہے کہ وہ تبدیلی جنس کی خواہاں خواتین کا غیر قانونی طریقے سے علاج کرتا رہا ہے۔ اس دوران اس نے کئی خواتین کے کولہوں اور جسم کے بعض دیگر حصوں میں سیمنٹ اور گیلو کے انجکیشن بھی لگائے تاکہ خواتین کا دھڑ زیادہ اسمارٹ اور خوبصورت بنایا جا سکے۔ تاہم اس طریقہ علاج سے خوبصورتی کی خواہش مند ایک خاتون جان سے ہاتھ بھی دھو بیٹھی ہے۔ جعلی سرجن کو اپنی مریضہ کو سیمنٹ کے ٹیکے لگا کر قتل کرنے کا ایک مقدمہ بھی تیار کر لیا گیا ہے، جس پر جلد ہی عدالتی کارروائی کا امکان ہے۔

فلوریڈا پراسیکیوٹر جنرل پہلے معاملے کی تحقیق کر رہا تھا تاہم انجکشن میں استعمال ہونے والے مواد کے بارے میں معلومات نہیں مل رہی تھیں۔ یہ راز اس وقت کھلا جب جسم میں سوزش کی مریضہ ایک خاتون نے اسپتال میں علاج کے دوران بتایا کہ اس نے جنس کی تبدیلی کے لیے مئی 2010ء میں جعلی سرجن سے سیمنٹ اور گیلو کے ٹیکے لگوائے تھے۔

اونیئل رون نے بتایا کہ پلاسٹک سرجری کے لیے اس کے پاس آنے والوں میں زیادہ ترخواتین شامل تھیں جواپنی جنس تبدیل کرانا چاہتی تھیں۔ اس دوران اس نے خواتین کے ہونٹوں، گالوں اور جسم کے دوسرے حصوں پرسیمنٹ اور گیلو کا استعمال کیا۔

ڈاکٹروں کی تحقیق کے مطابق جعلی سرجن نے خاتون کو سیمنٹ، تیل اور گیلو کے ٹیکے لگائے تاکہ اس کے جسم کے پچھلے حصے کا حجم بڑھایا جا سکے۔ پولیس کے مطابق رونیئل موریس یہ جعلی طریقہ علاج لوگوں کے گھروں میں جا کر کرتا رہا ہے۔ اس کے علاوہ اس نے ایک ہوٹل میں بھی یہ دھندہ شروع کر رکھا تھا۔ موریس نے خود کو بھی سیمنٹ اور گیلو سے ٹیکے لگا رکھے ہیں۔