.

امریکی جاسوسی کے مشغلے سے یورپی اتحادی ناراض

2006 میں امریکی ادارہ 35 عالمی رہنماوں کو مانیٹر کر سکتا تھا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل نے کہا ہے امریکا کی جانب سے جاسوسی کرنے کے حالیہ انکشافات سے امریکا اور یورپی لیڈروں کے درمیان اعتماد مجروح ہوا ہے ۔ یورپی دنیا کے رہنما اوباما انتظامیہ کی اس حرکت پر ناراض نظر آتے ہیں۔

واضح رہے کہ فرانس کے صدر اور جرمنی کی چاسلر دونوں ان توہین آمیز اور اعتماد شکن انکشافات پر صدر اوباما سے فون پر شکایت بھی کر چکے ہیں اور آئندہ دنوں میں بھی اس سلسلے میں مشترکہ حکمت عملی کا ارادہ رکھتے ہیں۔

امریکی قومی سلامتی کے ادارے کے بارے میں یہ اطلاع سامنے آئی تھی کہ امریکا نے فرانس کے 70 لاکھ فونز ٹیپ کیے، جبکہ جرمنی کی تو چانسلر بھی اس امریکی جاسوسی کی زد میں رہیں۔ یورپ کی تاریخ میں اتنی اہم اور اعلی منصب پر فائز کسی خاتون کے ذاتی فون تک ٹیپ کرنے کی یہ منفرد مثال ہے۔

اس صورتحال پر بات کرتے ہوئے جرمن چانسلر کا کہنا تھا ''ہم اتحادیوں اور شراکت داروں میں اعتماد چاہتے ہیں۔ اب اس اعتماد کو نئے سرے سے قائم کیے جانے کی ضرورت ہے۔''

جرمن چانسلر کی بات چیت سے صاف نظر آتا تھا کہ وہ صدر اوباما سے فون پر شکایت کرنے کے بعد بھی اطیمنان میں نہیں ہیں۔

برطانوی اخبار گارجین کے مطابق امریکی قومی سلامتی کا ادارہ 2006 میں دنیا کے 35 ممالک کے مواصلاتی رابطوں کا مانیٹر کر سکتا تھا ۔ گارجین کی رپورٹ کے مطابق وائٹ ہاوس کے سینیئیر حکام اس سلسلے میں حوصلہ افزائی کرتے تھے۔