.

تیونس:دارالحکومت میں پولیس کے ساتھ جھڑپ میں ایک جنگجو ہلاک

سرحدی اور وسطی علاقوں میں جاری تشدد کا سلسلہ دارالحکومت میں پہنچ گیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کے دارالحکومت تیونس میں سکیورٹی فورسز کی مسلح جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ ہوئی ہے جس میں ایک شخص ہلاک اور تین زخمی ہوگئے ہیں۔

العربیہ کے نمائندے نے بتایا ہے کہ جائے وقوعہ کے نزدیک فٹ پاتھ پر خون کے دھبے دیکھے گئے ہیں۔فائرنگ کے اس واقعہ سے چندے قبل پولیس جاسوس کتوں کے ساتھ دارالحکومت کے علاقے عنصر میں ایک کالج کے نزدیک کھڑی بارود سے لدی کار کو چیک کررہے تھے۔

ایک پولیس افسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ''ایک دہشت گرد کو سر میں گولی مار کر ہلاک کردیا گیا ہے،ایک کو گرفتار کر لیا گیا ہے اور ایک بھاگ گیا ہے''۔انھوں نے بتایا کہ کار میں رکھا بم پھٹنے کے قریب تھا لیکن اسے ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

تیونس میں تشدد کا یہ واقعہ وسطی شہر سیدی بوزید میں جنگجوؤں اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے دوروز بعد پیش آیا ہے۔اس جھڑپ میں دو جنگجو اور سات پولیس اہلکار ہلاک ہوگئے تھے۔جمعرات کو اسی شہر میں پولیس نے بارود سے بھری کار برآمد کی تھی۔

گذشتہ روز کیف شہر میں مشتعل مظاہرین نے حکمراں اسلامی جماعت النہضہ کے دفتر کو نذرآتش کردیا تھا۔عینی شاہدین کے مطابق مظاہرین نے جمعرات کی صبح دفتر کوآگ لگادی جس سے عمارت کی بیرونی دیواریں جل گئیں اور دفتر کے اندر پڑے تمام آلات اور فرنیچر کو بھی جلا دیا گیا تھا۔

مظاہرین نے دفتر کی تباہ شدہ چیزیں اور جلی ہوئی دستاویزات عمارت کے باہر سڑک پر پھینک دیں۔ حکومت مخالف مظاہرین نے کیف کے علاوہ ایک اور شہر بیجا میں بھی النہضہ کے دفتر پر دھاوا بول دیا تھا۔ان دونوں شہروں میں پولیس کی مظاہرین کے ساتھ جھڑپیں ہوئی تھیں۔

کیف میں مظاہرین جنوبی شہر سیدی بوزید میں اسلامی جنگجوؤں کے ساتھ جھڑپ میں سات پولیس اہلکاروں کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کررہے تھے۔ النہضہ کا علاقائی دفتر ان مسلح جہادیوں کے ساتھ جھڑپ میں مارے گئے پولیس اہلکاروں میں سے ایک کے خاندان کے مکان کے نزدیک واقع تھا۔اس پولیس اہلکار کی والدہ کا کہنا تھا کہ النہضہ ہمارے بچوں کو قتل کرارہی ہے۔ہم اس کو معاف نہیں کرسکتے۔

تیونس میں تشدد کے یہ واقعات ایسے وقت میں پیش آئے ہیں جب دارالحکومت تیونس میں حزب اختلاف کا اتحاد حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کررہا ہے۔حزب اختلاف کا اتحاد النہضہ کی حکومت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ حکومت کے خاتمے تک اپنا احتجاج جاری رکھے گا۔