.

دریا کا پانی روکنے کے خلاف اہواز میں انسانی ہاتھوں کی طویل زنجیر

عرب اکثریتی صوبے میں دریائے کارون واحد ذریعہ آب پاشی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کے عرب اکثریتی صوبہ خوزستان [عربستان] کے مرکزی شہر اہواز میں ہزاروں افراد نے دریائے کارون کا پانی روکنے کے خلاف پانچ کلومیٹر طویل انسانی ہاتھوں کی زنجیر بنا کراپنا احتجاج ریکارڈ کرایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اہوازمیں دریائے کارون کے پانی کو صوبہ اصفہان منتقل کرنے کے حکومتی فیصلے کے خلاف یہ ایک ہفتے میں دوسرا بڑا احتجاج مظاہرہ تھا۔ حکومت دریا کے پانی کا رُخ صوبہ اصفہان کی جانب موڑنے اوراس پر کئی مقامات پرڈیم بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ جبکہ یہ دریا صوبہ خوزستان کی زرعی زمینوں اور آب پاشی کے حوالے سے بنیادی حیثیت کا حامل ہے۔ اس دریا کا پانی خشک ہونے کی صورت میں خوزستان کی بیشتر زرعی زمینیں بنجر ہونے کا اندیشہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مقامی آبادی حکومت کے اس فیصلے کے خلاف سڑکوں پر نکل آئی ہے۔

جمعرات کے روز دریائے کارون کے کنارے پانچ کلومیٹر طویل انسانی ڈھال بنا کر دریا کا پانی اصفہان کی طرف موڑنے کے خلاف احتجاج کیا گیا۔

دریائے کارون کے کنارے جمع ہزاروں افراد نے انگریزی، فارسی اور عربی میں تحریر کردہ کتبے اور بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر دریا کا پانی روکنے کے خلاف نعرے درج تھے۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ دریائے کارون کے پانی سے صوبہ خوزستان کو محروم کرنے سے پورا صوبہ بدترین ماحولیاتی تباہی سے دوچار ہوسکتا ہے، جس کے منفی اثرات نباتاتی اور حیوانی زندگی کے ساتھ انسانی زندگی پربھی پڑیں گے۔

احتجاجی مظاہرے سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے تہران حکومت پرعرب آبادی سے امتیازی سلوک روا رکھنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت دریائے کارون کا پانی صوبہ اصفہان کو دے کرکے خوزستان کے عوام سے آخری لقمہ بھی سلب کرنا چاہتی ہے۔ دریائے کارون کا پانی خشک ہونے سے زرعی صوبہ ریگستان بن جآئے گا جس کے تباہ کن مضمرات کی ذمہ داری حکومت پرعائد ہوگی۔ مظٓاہرین نے فیصلہ تبدیل کرنے تک احتجاج جاری رکھنے کی بھی دھمکی دی ہے۔

ادھر ایران کی مجلس شوریٰ میں بھی اہواز میں ہونے والے احتجاج کی بازگشت سنائی دینے کی اطلاعات ہیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق صوبہ خوزستان اور اہواز سے تعلق رکھنے والے راکین پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ وہ دریائے کارون کے پانی کا معاملہ مجلس شوریٰ میں اٹھائیں گے۔ اہواز سے مجلس شوریٰ کے منتخب رکن شریف الحسینی نے دریائے کارون کے کنارے بنائی گئی انسانی ڈھال میں بھی شرکت کی۔ اس موقع پر انہوں نے مظاہرین کو یقین دلایا کہ وہ دریا کا پانی اصفہان منتقل ہونے سے روکنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کریں گے۔