.

دو ہزار تیرہ شرپسند باغیوں کی بیخ کنی کا سال ہے: عمر البشیر

سوڈانی صدر کا تخریب کاروں سے آہنی ہاتھوں سے نپٹنے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سوڈان کے صدر محمد عمر البشیر نے ملک میں شورش پھیلانے میں ملوث عناصر کو سختی سے خبردار کیا ہے کہ وہ باز آ جائیں ورنہ ان کے خلاف طاقت کا بھرپوراستعمال کر کے ان کا قلع قمع کیا جائے گا۔ ان کا کہنا ہے کہ رواں سال سرکشوں، باغیوں اسلحے کے زور پر مطالبات منوانے والوں اور غیر ملکی ایجنٹوں کی بیخ کنی کا سال ہے۔ ہم ان لوگوں سے لڑ رہے ہیں جو غیر ملکی ایجنٹ ہیں اورعالمی فوجداری عدالت کے پراسیکیوٹر جنرل لوئیس مورینو اوکامبو کو حکومت کی خفیہ معلومات پہنچا رہے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق صدرعمرالبشیر نے ان خیالات کا اظہار شمالی ریاست کردفان میں "ابوزعیمہ"کے مقام پر ایک بڑے عوامی جلسہ عام سے خطاب میں کیا۔ انہوں نے ہتھیار ڈال کرغیر مسلح ہونے اور حکومت کے خلاف بغاوت ترک کرنے والوں کے لیے معافی کا اعلان کیا۔ صدر البشیر کا کہنا تھا کہ جو لوگ اسلحہ چھوڑ کرہمارے ساتھ شامل ہوں گے اور ملک وقوم کی خدمت کریں گے وہ ہمارے بھائی ہیں۔ ہم انہیں خوش آمدید کہیں گے لیکن جو شخص بندوق کے ذریعے بات کرے گا تو اس کا جواب بھی بندوق کی گولی ہی سے دیا جائے گا۔

حسب معمول سوڈانی صدر نے امریکا پر بھی اپنا غصہ اتارا۔ انہوں نے کہا کہ میں پچھلے ماہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک جانا چاہتا تھا مگر خرطوم میں امریکی سفارت خانے نے ٹال مٹول سے کام لیا اور مجھے ویزا نہیں دیا گیا۔ میں قسم کھا کر کہتا ہوں کہ جب تک اللہ میرے ساتھ ہے عالمی عدالت انصاف اور امریکا میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

صدرعمر البشیر ملک کی پسماندہ اور شورش زدہ ریاست کردفان کے دو روزہ دورے پر گذشتہ روز وہاں پہنچے تھے۔ اپنی تقریر میں انہوں نے ریاست میں تعمیرو ترقی اور عوامی بہبود کے کئی ترقیاتی منصوبوں کا بھی اعلان کیا۔