.

مراکش: بے روزگاروں نے وزیر اعظم کا قافلہ روک دیا

وزیر اعظم بن کیران میرٹ کے بغیر سرکاری ملازمتیں بانٹنے کیخلاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مراکش میں بڑھی ہوئی بے روزگاری سے تنگ آئے نوجوانوں نے اسلام پسند وزیر اعظم عبدل الہ بن کیران کے سرکاری گاڑیوں پر جانے والے قافلے کو روک لیا۔ بیروزگاری کے خلاف احتجاج کرنے والوں میں زیادہ تر گریجوایٹ نوجوان شامل تھے۔

وزیر اعظم کے قافلے کو روکنے کا یہ واقعہ دارالحکومت رباط میں پیش آیا جہاں وزیر اعظم کا پروٹوکول اور سکیورٹی سٹاف مظاہرین کے اچانک سامنے آ جانے سے بے بس نظر آیا۔ مظاہرین نے اس موقع پر روزگار دینے کا وعدہ پورا نہ کرنے پر وزیر اعظم کے استعفا کا مطالبہ کیا۔

مظاہرین نے وزیراعظم کے اقتدار چھوڑ کر گھر جانے کے مطالبے پر مبنی بینرز بھی اٹھا رکھے تھے اور گھر جاو کے نعرے لگا رہے تھے۔ واضح رہے وزیر اعظم نے ملک میں میرٹ کی عمل داری کے لیے سختی کا فیصلہ کر رکھا ہے اور سرکاری ملازمتوں کیلیے مخصوص امتحان پاس کرنا لازمی قرار دیا ہے۔

مراکش کے لوگوں کے لیے اس طرح کی پابندیاں قابل قبول نہیں ہیں، اس لیے وہ کچھ عرصے سے وزیر اعظم بن کیران کیخلاف اپنے غم و غصہ کا اظہار کرتے رہتے ہیں۔ عوامی سطح پر وزیر اعظم کے ان فیصلوں کو غیر مقبول سمجھا جاتا ہے۔

بے روزگار نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ انہیں اس معاہدے کے تحت روزگار دیا جائے جو سابقہ حکومت کے ساتھ ہوا تھا اور جس کے تحت کسی ٹیسٹ یا امتحان سے نہیں گذرنا پڑتا بلکہ براہ راست ملازمت ممکن ہو جاتی ہے۔

وزیراعظم سے بے روزگار نوجوان اس وجہ سے بھی ناراض ہیں کہ وزیر اعظم نے امتحان کے بغیر روازگار چاہنے والوں کو کورا جواب دیتے ہوئے ماہ اکتوبر کے شروع میں کہا تھا ایسے لوگوں کے لیے حکومت کے پاس کوئی روزگار نہیں ہے۔

واضح رہے بے روزگاروں نے ان دنوں ایک تنظیم قائم کر لی ہے جو میرٹ کے بکھیڑوں سے آزادی چاہتی ہے۔