.

مرسی کی رہائی کے لیے 4 نومبر کو مصر میں مظاہروں کی اپیل

اسی روز معزول صدر کیخلاف قاہرہ میں مقدمے کی سماعت متوقع ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے اسلام پسند اتحاد نے معزول کیے گئے پہلے منتخب صدر ڈاکٹر مرسی کی بحالی کیلیے 4 نومبر کو بڑے احتجاج کی اپیل کی ہے۔ اس احتجاجی اپیل کا مقصد عوام کو اس روز سڑکوں پر لانا ہے جس روز فوجی حمایت سے وجود میں آنے والی عبوری حکومت معزول صدر کیخلاف بنائے گئے تازہ مقدمہ قتل کی سماعت چاہتی ہے۔

مبصرین نے اس موقع پر سڑکوں پر سخت تصادم کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ واضح رہے 3 جولائی کو جب سے محمد مرسی کو فوج کے سربراہ نے اقتدار سے الگ کیا ہے مصر مسلسل احتجاج اور کشت و خون کی زد میں ہے۔ اب تک سرکاری دعوے کے مطابق سینکڑوں جبکہ اخوان کے دعوی کے مطابق ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔ ہزاروں سیاسی کارکن جیلوں میں بند ہیں۔

محمد مرسی اپنے حامی اخوانی قائدین کی طرح مسلسل تین جولائی سے نظربند ہیں۔ ان تمام قائدین بشمول معزول صدر کے خلاف عبوری حکومت نے مختلف قسم کے مقدمات قائم بنا رکھے ہیں جن کی اب سماعت کا مرحلہ ہے۔

معزول صدر مرسی، جنہیں اب تک نامعلوم جگہ پر بند رکھا گیا ہے، پر دسمبر 2012 میں صدارتی محل کے باہر متعدد افراد کے قتل کا مقدمہ چلائے جانے کی تیاری ہے۔

اسلام پسندوں نے مرسی کے خلاف مقدمے کی سماعت کے موقع پر مرسی اور دیگر سیاسی رہنماوں کی رہائی کے حق میں اور فوجی انقلاب کے خلاف آواز اٹھانے کا فیصلہ کیا ہے، اس سلسلے میں مصر کے اندر اور باہر مختلف طبقات کو بھی رہائی کیلیے اپنا کردار ادا کرنے کی اپیل کی جا رہی ہے۔ اسلام پسند اتحاد نے اپنے اس احتجاج کو پرامن رکھنے کی بھی اپیل کی ہے۔

تین جولائی کے بعد مظاہرین سے نمٹنے کی فورسز کی حکمت عملی پر نظر رکھنے والے ماہرین کے مطابق مرسی کے حق میں 4 نومبر سے شروع ہونے والے اس احتجاج کے موقع پر بھی سخت ٹکراو کا خدشہ ہے۔ اس سے پہلے اسی ماہ چھ اکتوبر کو ایسے ہی مظاہروں کے دوران کم از کم 57 افراد مارے گئے تھے۔ جبکہ مرسی کے حامیوں کا سب زیادہ جانی نقصان 14 اگست رابعہ مسجد اور النہضہ کے باہر فورسز کے کریک ڈاون کے باعث ہوا تھا۔

معزول صدر اور ان کے شریک ملزمان کے خلاف ضلع قاہرہ کی ایک عدالت میں سماعت متوقع ہے۔ اس سلسلے میں خصوصی حفاظتی انتظامات کی توقع ہے۔