.

تیونس: سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے جامع مذاکرات کا آغاز

بات چیت میں عبوری حکومت کی تشکیل اور انتخابات کی تیاری پرغور

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس میں گذشتہ چار ماہ سے جاری سیاسی کشیدگی کے خاتمے کے لیے مختلف سیاسی دھڑوں نے ایک بار پھر جامع قومی مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔ جمعہ کے روز ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور میں ملک میں عبوری حکومت کی تشکیل اور انتخابات کی تیاری پرغور کیا گیا۔

خیال رہے کہ تیونس میں سیاسی کشیدگی کا آغاز گذشتہ جولائی میں اپوزیشن لیڈر محمد البراہیمی کی قاتلانہ حملے میں ہلاکت کے بعد ہوا تھا۔ اپوزیشن کے مختلف دھڑوں نے البراہیمی کے قتل کی ذمہ داری حکومت کے مقربین پرعائد کرتے ہوئے اسلام پسند تحریک النہضہ کی حکومت کے خاتمے کے لیے تحریک شروع کردی تھی۔ اپوزیشن کی اس تحریک میں سیکولر طبقات اور مزدور تنظیمیں بھی شامل ہو گئی تھیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تمام فریقین پرمشتمل جامع مذاکرات کا آغاز کل جمعہ کو وزارت انسانی حقوق کے ہیڈکواٹرز میں ہوا۔ اجلاس میں حکمران جماعت "النہضہ" اور حکومتی اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے مندوبین جبکہ اپوزیشن کی جانب سے "نیشنل سالویشن الائنس کے ارکان نے شرکت کی۔ تازہ مذاکراتی مساعی ماضی میں ہونے والی بات چیت ہی کے خطوط پر آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

قبل ازیں وزیر اعظم علی العریض کی جانب سے اپنے عہدے سے استعفے کی تحریری یقین دہانی کے بعد جمعرات کو اپوزیشن اور حکومت کی چار رکنی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔ بعد ازاں اپوزیشن نے حکومتی اراکین پرعدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے اجلاس سے واک آؤٹ کر دیا تھا۔

ادھر نیشنل سالویشن آلائنس کے پارلیمنٹ کے اجلاس بائیکاٹ کرنے والے اراکین وزیر اعظم العریض کے استعفے کی یقین دہانی کے بعد دوبارہ اجلاس میں شرکت پر آمادہ ہو گئے ہیں۔ جمعرات کے روز ہونے والے اجلاس میں اپوزیشن نے یہ شرط رکھی تھی کہ جب تک وزیر اعظم علی العریض عہدہ چھوڑ نہیں دیتے تک وہ مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے۔ اپوزیشن کے اصرار کے بعد وزیر اعظم نے تحریری طور پر "مناسب وقت " میں عہدہ چھوڑنے کی یقین دہانی کرا دی تھی۔

حکمراں اسلام پسند جماعت "تحریک النہضہ" کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی کا کہنا ہے کہ "قومی مذاکرات سے عبوری مرحلے کو صحیح ٹریک پرلانے میں مدد ملے گی"۔ قومی مذاکرات کے اجلاس کے دوران انہوں نے کہا کہ "یہ امر نہایت اہم ہے کہ ہم مذاکرات کو انقلاب کی تکمیل کا ذریعہ بنائیں۔ ملک مزید انارکی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وقت آ گیا ہے کہ ملک میں شفاف، آزادانہ، جمہوری اور منصفانہ انتخابات کرا کے عرب ممالک میں روشن مثال قائم کی جائے"۔

اپوزیشن اتحاد میں شامل "ری پبلیکن پارٹی" کی خاتون رہ نما میہ الجریبی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن نے وزیراعظم علی العریض کی جانب سے عہدہ چھوڑنے کی یقین دہانی کے بعد مذاکرات میں شمولیت کا فیصلہ کیا ہے۔ نئی بات چیت ماضی میں ہونے والے مذاکرات ہی کے خطوط پر کی جائے گی۔