.

سعودی عرب خاندانی دولت کے لحاظ سے مشرق وسطی کا پہلا ملک

متحدہ عرب امارات دوسرے اور مصر تیسرے نمبر پر ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب میں مالیاتی شرح نمو سے متعلق تحقیق کرنے والے ادارے "سوئیس کریڈٹ ریسرچ انسٹیٹیوٹ" کی سالانہ رپورٹ میں دنیا بھر میں فی کنبہ اور فی کس دولت کے اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سنہ 13-2012ء کے درمیانی عرصے میں دنیا بھر میں مجموعی طور پر فی کنبہ دولت میں 4.9 فی صد اضافہ ہوا ہے۔ تمام تر مالیاتی بحرانوں کے باوجود یہ رقم 241 ٹریلین ڈالر سے زیادہ بنتی ہے۔

رپورٹ میں کنبہ اور فی کس دولت کے اعتبار سے دنیا کو مختلف خطوں میں منقسم کیا گیا ہے۔ عرب دنیا میں مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقا کو الگ الگ خطوں میں بانٹا گیا ہے۔ مشرق وسطیٰ میں سعودی عرب چھ کھرب ڈالر کے ساتھ مجموعی خاندانی دولت کے اعتبار سے پہلا امیر ترین ملک ہے۔ متحدہ عرب امارات نصف ٹریلین کے ساتھ دوسرے جبکہ مصر چار سو ارب کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے۔

فی کس دولت کے اعتبارسے خلیجی ریاست قطر پہلے نمبر پر ہے، جہاں پچھلے ایک سال کے دوران فی کس 1 لاکھ 53 ہزار 294 ڈالر دولت بتائی گئی۔ قطر میں فی کس شرح آمدن میں پچھلے سال کی نسبت دو فی صد اضافہ بھی ریکارڈ کیا گیا۔ فی کس دولت کے اعتبار سے متحدہ عرب امارات 126791 ڈالر کے ساتھ دوسرے اور کویت 119101 ڈالر کے ساتھ تیسرے نمبر رہے ہیں۔ یو اے ای میں ایک سال میں فی کس شرح نمو میں چار فی صد جبکہ کویت صفر اعشاریہ تین فی صد فی کس آمدنی میں اضافہ ہوا۔ بحرین اور سلطنت عمان میں بھی گذشتہ برس سالانہ فی کس دولت میں دو فی صد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

سعودی عرب میں پچھلے ایک برس میں فی کس دولت میں 0.7 فی صد اضافہ ہوا جس کے بعد فی کس دولت 37346 ڈالر تک جا پہنچی ہے جبکہ مصر میں فی کس دولت میں 12 فی صد ریکارڈ کمی کے بعد 7285 ڈالر رہی۔ مجموعی سطح پر دنیا بھر میں فی کس صافی دولت 51 ہزار600 ڈالر بتائی گئی ہے۔