.

قیدیوں کے فرار میں ناکامی کے بعد القاعدہ کی یمنی حکام کو دھمکی

محروسین سے غیر انسانی سلوک کی شکایات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جزیرۃ العرب میں سرگرم شدت پسند تنظیم القاعدہ نے یمن کے دارالحکومت صنعاء کی ایک جیل سے اپنے تین سو ساتھیوں کے اجتماعی فرار کی کوشش میں ناکامی کے بعد یمن کے خلاف تباہ کن حملوں کی دھمکی دی ہے۔

صنعا کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی" اے ایف پی" کو بتایا کہ القاعدہ کو جیل توڑ کراپنے تین سو کارکنوں کو چھڑانے میں ناکامی کا گہرا دکھ ہے۔ جس پر تنظیم نے یمنی تنصیبات پرتباہ کن حملوں کی دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں۔"

قبل ازیں یمنی حکام نے بتایا تھا کی منگل کے روز صنعاء سینٹرل جیل میں القاعدہ کے تین سو ارکان نے جیل سے فرار کی اجتماعی کوشش کی تھی جسے جیل کے سیکیورٹی عملے اور انٹیلی جنس حکام نے ناکام بنا دیا تھا۔

جیل کے عملے کا کہنا تھا کہ القاعدہ کے زیرحراست جنگجوؤں نے ان پر چھریوں اور فولادی سلاخوں سے حملہ کردیا جس کے نتیجے میں جیل کے متعدد سیکیورٹی اہلکار زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ان میں انٹیلی جنس کا ایک تفتیشی افسر بھی شامل ہے۔

ادھرانٹرنیٹ پرالقاعدہ کی جانب سے لوڈ کی گئی ایک ویڈیو فوٹیج میں تنظیم کے سرکردہ مقامی کمانڈرجلال بلعیدی المرقشی کو یمنی حکومت کو سخت دھمکیاں دیتے دکھایا گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویڈیو شیئرنگ کی ویب سائٹ"یو ٹیوب" پرلوڈ کی گئی ویڈیو میں القاعدہ کمانڈر المرقشی کاکہنا ہے کہ "میں صنعاء جیل میں اپنے ساتھیوں پر ہونے والے تشدد پرحکومت کو خبردار کرتا ہوں کہ وہ اب ہمارے رد عمل کا انتظار کرے"۔
القاعدہ کمانڈر کا مزید کہنا ہے کہ"جیل سے فرار میں ناکامی کے بعد ہمارے ساتھیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا ہم اسے فراموش نہیں کرسکتے۔ ہم اس پر یمنی حکام کو تباہ کن اور دردناک جواب دیں گے"۔

القاعدہ کمانڈر کے بہ قول یمن کی جیلوں میں زیرحراست مجاھدین کے ساتھ انسانیت سوزسلوک کیا جاتا ہے۔ کئی سال سے زیرحراست کارکنوں کی مسلسل توہین اور تذلیل کی جا رہی ہے اورانہیں عدالتوں میں بھی پیش نہیں کیا جاتا اور نہ ہی ان پرمقدمات چلائے جاتے ہیں۔
ادھریمن کی دوغیرسرکاری انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی جیلوں میں قیدیوں کے ساتھ ہونے والےناروا سلوک کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ دونوں انسانی حقوق گروپوں کا کہنا ہے کہ ان کے پاس جیلوں میں قیدیوں سے غیرانسانی سلوک کی شکایات کا ایک انبار ہے۔ یمن حکومت اورعالمی ادارے قیدیوں سے ہونے والی مبینہ بدسلوکی کی شفاف تحقیقات کرائیں۔