فردو میں واقع جوہری تنصیب ''سرخ لکیر'' ہے:ایرانی رکن پارلیمان

ایران نے عالمی طاقتوں کے مطالبے پریورینیم افزودگی کا کام بند نہیں کیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ایران عالمی طاقتوں کے مطالبے پر فردو میں واقع یورینیم کو افزودہ کرنے کی زیر زمین جوہری تنصیب کی بندش پر کبھی رضامند نہیں ہو گا اور اس نے ابھی تک یورینیم افزودگی کا حساس کام بند نہیں کیا ہے۔

یہ بات ایرانی پارلیمان کی خارجہ امور کمیٹی کے سربراہ علاءالدین بروجردی نے اتوار کو ایک بیان میں کہی ہے۔ایرانی خبررساں ایجنسی مہر کی رپورٹ کے مطابق انھوں نے کہا کہ ''یہ ممکن ہے عالمی طاقتیں فردو کی بندش سمیت بعض شرائط عاید کریں لیکن ایسا یقیناً نہیں ہوگا''۔

بروجردی نے ایران کے خلاف کسی فوجی اقدام پر انتباہ کیا ہے اور کہا کہ ان کا ملک کسی بھی غیر ملکی حملے کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے لیکن انھوں نے اس کی وضاحت نہیں کی۔

انھوں نے کہا کہ ''ہم نے امریکا اور صہیونی رجیم کے لیے شرائط وضع کردی ہیں اور یہ کام اس انداز میں کیا گیا ہے کہ وہ ہماری جوہری تنصیبات پر حملے کا سوچیں گے بھی نہیں۔ہمارے میزائل سد جارحیت کا ہتھیار ہیں لیکن فردو ہماری سرخ لکیروں میں سے ایک ہے''۔

فردو ایرانی دارالحکومت تہران سے ڈیڑھ سو کلومیٹر جنوب میں قم شہر کے نزدیک واقع ہے۔ایک پہاڑی سرنگ میں واقع اس جوہری تنصیب میں قریباً تین ہزار سینیٹری فیوجز مشینیں یورینیم کی افزودگی کا کام کررہی ہیں۔ایران کے جوہری پروگرام کے مخالف ممالک کو سب سے زیادہ فردو ہی کے بارے میں تشویش لاحق ہے۔

ایران نے ؁ 2009ء میں اس جوہری تنصیب کا انکشاف کیا تھا اور اس نے ؁ 2011ء میں یہاں یورینیم کو 20فی صد تک افزودہ کرنے کا آغاز کیا تھا۔اب صرف بعض فنی مراحل جوہری ہتھیار کی تیاری کے لیے درکار یورینیم کو 90 تک افزودہ کرنے کی راہ میں حائل ہیں۔اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی ایران سے یورینیم افزودگی کا عمل منجمد کرنے کا مطالبہ کرتے چلے آرہے ہیں۔

تاہم علاء الدین بروجردی نے اس کی تصدیق کی ہے کہ یورینیم کو 20 فی صد تک افزودہ کرنے کا عمل جاری ہے۔اقوام متحدہ کے جوہری توانائی کے ادارے آئی اے ای اے سے تعلق رکھنے والے سفارت کاروں نے بھی جمعہ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ انھیں ایران کی جانب سے یورینیم کو افزودہ کرنے کا کام روکنے سے متعلق کوئی اطلاع نہیں ہے۔

دوسری جانب مشرق وسطیٰ کی واحد غیر علانیہ جوہری طاقت صہیونی ریاست اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کا کہنا ہے کہ ایران کو یورینیم افزودہ کرنے کی صلاحیت اور بھاری پن کے پلانٹ سے محروم کیا جانا چاہیے۔انھوں نے یہ بھی انتباہ کیا ہے کہ ایران کم درجے کی افزودہ یورینیم کو ہفتوں میں ہتھیار بنانے کے درجے کی یورینیم میں تبدیل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں