.

امریکا کے بلدیاتی انتخابات میں عرب امیدواروں کی تاریخ ساز شرکت

ڈئر بورن شہر میں انتخابی مہم میں تیزی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا میں ان دنوں صدارتی انتخابات کی گہما گہمی یا اراکین کانگریس کے چناؤ کا ہنگامہ تو نہیں مگرریاست مشی گن شہر ڈئر بورن میں انتخابی نعروں کی گونج سنائی دے رہی ہے۔ شہر میں آئندہ ماہ میونسپل کونسل کے دوسرے اور آخری مرحلے کے انتخابی دنگل کا بگل بج چکا ہے۔ اس چناؤ کی خاص بات یہ ہے کہ اس بار "ڈئربورن" کی میونسپل کونسل کی مختلف نشستوں پر سب سے زیادہ عرب نژاد امیدوارحصہ لے رہے ہیں۔

مائیک سرعینی بلدیاتی کونسل کے عرب نژاد امیدواروں میں سے ایک ہیں۔ شہر میں ان کی رہائش گاہ ہی دراصل ان کا انتخابی دفترہے۔ ان کے ڈرائنگ روم میں انتخابی پوسٹراوراشتہارات کا بھی ایک ڈھیرلگا ہوا ہے۔ سرعینی کی انتخابی مہم چلانے والوں میں ان کے چند مقرب دوست، بچے اوراہلیہ پیش پیش ہیں۔

سرعینی وہ عرب نژاد امریکی ہیں جن کی والدہ بھی اسی شہرکی میونسپل کونسل کی رکن رہ چکی ہیں۔ وہ پہلی مسلمان عرب خاتون ہیں جنہیں سنہ 1980 کے اواخرمیں اس شہر کی ضلعی انتظامیہ کا حصہ بننے کا شرف حاصل ہوا۔

مائیک سرعینی نے بتایا کہ "میری والدہ نے 1985ء میں ڈئر بورن کے میونسپل کونسل کے انتخابات میں پہلی بارحصہ لیا مگر وہ کامیاب نہ ہوسکیں۔ چار سال بعد 1989ء میں انہوں نے دوبارہ میدان میں اترکر پہلی مسلمان عرب خاتون کی حیثیت سے اس عہدے پرکامیابی حاصل کی"۔

سرعینی نے بتایا کہ جب میری والدہ نے میونسپل کمیٹی کے انتخابات میں حصہ لیا اس وقت شہرمیں رجسٹرڈ عرب ووٹروں کی تعداد چار ہزار تھی۔ آج شہر میں آٹھ ہزار سے زائد رجسٹرڈ ووٹر شامل ہیں۔

ڈئربورن عرب شہریوں کی آبادی کے اعتبار سے اپنی الگ شناخت رکھتا ہے۔ یہ امریکا کا واحد شہرہے جس میں تیس سے چالیس ہزار امریکی عرب رہائش پذیرہیں، جو شہر کی کل آبادی کا چالیس فی صد ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ڈئربورن کی میونسپل کونسل کی کل 07 نشستوں پر14 عرب نژاد امریکی امیدوار حصہ لے رہے ہیں۔ آج تک امریکا میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات میں یہ عرب امیدواروں کی تاریخ ساز تعداد ہے۔

ڈئربورن کے عام باشندے دیہی کونسل کے انتخابات اورعرب امیدواروں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟مختلف لوگوں سے یہ سوال پوچھا گیا تو ان میں سے اکثریت کا کہنا تھا کہ وہ امیدواروں کی مخصوص علاقائی شناخت کے بجائے ان کی اہلیت کوفوقیت دیں گے۔ انتخابات کے پہلے مرحلے میں کئی امیدواروں کی کامیابی کے پیچھے بھی ان کی اہلیت ہے کیونکہ عام لوگوں کے نزدیک تمام امیدواراپنے شعبوں کے ماہراورپیشہ ورہیں۔ ان میں ایک وکیل، ایک تاجر اورایک اکاؤنٹنٹ بھی ہے۔

بلدیاتی کونسل کے انتخابی دنگل میں شامل عرب نژاد امریکی سوزان داباجا واحد خاتون امیدوارہیں۔ مشی گن یونیورسٹی کے طلباء کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سوزان نے بتایا کہ "میرے خیال میں انتخابات میں سب سے بڑ ا چلینج عرب نژاد شہریوں کو ووٹ ڈلوانے کے لیے پولنگ مراکز تک لانا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ ڈئربورن کے شہری صدارتی انتخابات کو بھی اتنی اہمیت نہیں دیتے جتنی وہ بلدیاتی انتخابات کو دیتے ہیں، کیونکہ بلدیاتی انتخابات ان کی روز مرہ زندگی کے لیے نہایت اہمیت کے حامل ہیں اس لیے عام شہری بھی اس میں بھرپور دلچسپی لیتے ہیں۔

طارق بیضون سب سے کم عمرعرب نژاد امیدوارہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ بلدیاتی انتخابات کے پہلے مرحلے میں صرف پندرہ فی صد عرب نژاد شہریوں نے ووٹ ڈالے ہیں۔ ہم سب کو پولنگ کے عمل میں بڑھ چڑھ کرحصہ لینا چاہیے کیونکہ ہم بھی اول وآخرامریکی شہری ہیں۔ ہم حکومت کوٹیکس ادا کرتے ہیں، سول سروس کے اداروں میں خدمات انجام دیتے ہیں اوررفاہی اداروں کے لیے فنڈز جمع کرتے ہیں، ہم ووٹ کیوں کر نہیں ڈالیں گے"۔

عرب نژاد بلدیاتی امیدواروں کے درمیان انتخابات کی حد تک مقابلہ ہے ورنہ ان میں کسی قسم کا کوئی اختلاف نہیں ہے۔ امیدواراپنے عرب ہونے پر فخر کرتے ہیں لیکن وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ اول و آخر وہ ڈئر بورن کے باشندے ہیں۔