.

اوباما، سعودی عرب سے تعلقات کی خرابی روکیں، ریپبلکنز کا مطالبہ

امریکا مشرق وسطی میں ناکام ہے ، ریاض نئے دوست تلاش کر رہا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی اپوزیشن جماعت ری پبلکن کے قانون سازوں نے صدر اوباما کی اقتصادی ناکامیوں کو بے نقاب کرنے کے بعد خارجہ شعبے میں بھی اوباما انتظامیہ کو معاملات کو بہتر بنانے اور خصوصا سعودی عرب کے مشرق وسطی کے بارے میں تحفظات دور کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

امریکی کانگریس کے ری پبلکن ارکان جن میں کانگریس کی ہاوس انٹیلی جنس کمیٹی کے چئیر مین مائیک راجرز بھی شامل ہیں نے صدر اوباما پرسعودی عرب کے ساتھ امریکی معاہدات اور معاملات میں آنے والی کمزوری کو دور کرنے کیلیے زور دیتے ہوئے کیا ہے کہ ہمارے اہم عرب اتحادی نے شام اور ایران کے حوالے سے امریکی پالیسی پر احتجاج کیا ہے۔

مائیک راجرز کا کہنا ہے کہ ''سعودی عرب کے ساتھ امریکی مناقشت پچھلے دو برسوں پر پھیلی ہے۔'' انہوں نے شام میں 2011 سے پیدا صورت حال کے بارے میں کہا '' امریکا نے جس طرح اس اہم تنازعے کا ساحل سے نظارہ کیے جانے کی پالیسی اختیار کرنا اور ایران کے مشکوک جوہری پروگرام کے باوجود حالیہ مہینوں میں لپک کر اس کے ساتھ کر میٹھی میٹھی باتیں کرنے کا فیصلہ کرنا سعودی ناراضگی کی اہم وجوہ ہیں۔''

مائِک راجرز کا کہنا تھا کہ یہ معاملات سعودی عرب ، قطر، اردن اور عرب لیگ کے دوسرے ارکان کیلیے تشویش کا باعث ہیں۔

واضح رہے اسی ہفتے امریکی اخبار وال سٹڑیٹ جرنل نے سعودی انٹیلی جنس چیف کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ سعودی عرب نے یورپی ممالک کو بتا دیا ہے کہ ان کا ملک شامی باغیوں کی تربیت کیلیے امریکی سی آئی اے کے ساتھ جاری تعاون میں کمی کر سکتا ہے ۔''

اس صورت حال کے پیش نظر سعودی عرب نے اسی ماہ اکتوبر میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ کیونکہ اقوام متحدہ مشرق وسطی کے بارے میں اپنی ذمہ داریاں نبھانے میں ناکام ہو چکا ہے۔

سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ ندر بن سلطان کا کہنا تھا '' سعودی عرب کا یہ فیصلہ در اصل امریکا کیلیے پیغام ہے اقوام متحدہ کیلیے نہیں۔''

ری پبلکن رکن کانگریس مائیک راجرز نے اس بارے میں کہا '' امریکا اور سعودی عرب کے درمیان دراڑ آئی ہے اس لیے جتنا جلدی ممکن ہو اس پیدا ہونے والی خلیج کو پاٹنا چاہیے، کہ سعودی عرب اس وقت نئے دوست کی تلاش میں ہے ، یہ امریکا کیلیے اچھا نہیں ہے۔''

ری پبلکن سینیٹر جان مکین اور سینیٹر لنڈسے گراہم نے بھی اوباما کی قائدانہ کردار سے مبینہ دستبرداری پر تنقید کی اور کہا اوباما امریکی مفادات کے تحفظ میں ناکام ہیں ۔ ان دونوں سینیٹرز کے مطابق '' اوباما انتظامیہ کی پالیسیوں کی وجہ سے امریکا بری طرح ناکام ہے ،خصوصا مشرق وسطی میں امریکا ناکام ہوا ہے۔''