.

تین ہفتوں میں 'النہضہ' کی حکومت مستعفی ہوجائے گی: غنوشی

ملک میں ملائیشیا اور سوئٹرزلینڈ جیسا جدید جمہوری نظام لانا چاہتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

تیونس کی اسلام پسند حکمراں جماعت "تحریک النہضہ" کے سربراہ علامہ راشد الغنوشی نے کہا ہے کہ ان کی جماعت حکومت سے الگ ہونے جا رہی ہےمگر تیونس کے اقتدار سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی موجودہ صورت حال میں دستورسازی کے عمل کو مزید التواء میں نہیں ڈالا جا سکتا ہے۔ تمام اراکین پارلیمان اورحکومت اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔

تحریک النہضہ کے سربراہ راشد الغنوشی نے ان خیالات کا اظہارسرکاری ٹی وی کو دیے گئے ایک انٹرویومیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات ہمیں مزید وقت ضائع کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ ان کی جماعت کی نگرانی میں قائم حکومت اگلے تین ہفتوں میں مستعفی ہوجائے گی تاہم مجلس قانون ساز ایک ماہ تک کام کرتی رہے گی۔

النہضہ کی حکومت سے علاحدگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں علامہ الغنوشی نے کہا کہ ان کی جماعت حکومت سے الگ ہو رہی ہے، تیونس کے اقتدار سے دستبردار نہیں ہوئی ہے۔ ملک کی اصل طاقتوراتھارٹی دستور ساز کونسل ہے جس میں النہضہ موجود رہے گی۔ اس کے علاوہ مستقبل قریب میں وجود میں آنے والی نئی حکومت میں بھی النہضہ حصہ بہ قدر جثہ موجود رہے گی۔

ملک میں جاری سیاسی کشیدگی کے بارے میں انہوں نے کہا کہ انقلاب کے بعد ہم قومی مفاہمت سے گذرکر حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ ہم ملک میں ملائیشیا اور سوئٹرزلینڈ جیسا جدید جمہوری نظام لائیں گے جو پوری عرب اور اسلامی دنیا کے لیے ماڈل ہوگا۔
علامہ الغنوشی نے کہا کہ جمہوریت تمام فریقین کومل کرکام کرنے کا راستہ سجھاتی ہے۔ اس نظام میں ایک فریق اپنے مخالف کو کاٹ کر دور نہیں پھینکتا بلکہ ساتھ لے کرچلتا ہے۔ ہم بھی اپنے سیاسی مخالفین کو ساتھ لے کرچلیں گے۔

ملک میں موجود سخت گیرسلفی مسلک کے گروپوں کے بارے میں النہضہ کے سربراہ نے فراخدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا کہ سلفی بھی ہمارے بھائی اور وطن کے شہری ہیں۔ ہم ان کے خلاف محاذ جنگ نہیں کھولیں گے اور نہ ہی ہم انہیں معاشرے سے الگ کوئی طبقہ خیال کرتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کریں گے۔